یورپی یونین کے محکمہ امور خارجہ کے سربراہ کا اسرائیل پر تحمل سے کام لینے پر زور
میرا خیال ہے کہ اسرائیل کے بہترین دوست آپ کو یہی بتائیں گے
برسلز، 17نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ کی پٹی کے اطرااف کی اسرائیلی بستیوں کے دورے کے دوران یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل Eu foreign affairs chief josep borrell نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے کیے گئے طوفان الاقصیٰ حملے کے ردعمل میں ”اندھا دھند‘‘ انتقام کی پالیسی کے بجائے تحمل سے کام لے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہشت دوسرے خوف کا جواز نہیں بنتی۔بوریل نے اسرائیل کے دورے کے دوران کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کے ساتھ بات کی، جب کہ انہوں نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے سے متاثرہ بئیری کمیونٹی کا دورہ کیا۔بوریل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے غصے کو سمجھتا ہوں، لیکن میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ غصے سے اندھے بہرے نہ ہوں۔
میرا خیال ہے کہ اسرائیل کے بہترین دوست آپ کو یہی بتائیں گے۔دورے کے دوران بوریل نے غزہ کی پٹی میں یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔گذشتہ اتوار کو بوریل نے اس بات کی تصدیق کی تھی کی یورپی یونین فوری طور پر جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداریوں کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کے لیے ایک سمندری راستہ بھی شامل ہے۔بوریل نے ایک بیان میں مزید کہا کہ یورپی یونین کو غزہ میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر گہری تشویش ہے۔بوریل نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں ہونے والی لڑائیوں سے ہسپتالوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور شہریوں اور طبی عملے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہسپتالوں کو ضروری طبی سامان فوری طور پر فراہم کیا جانا چاہیے اور جن مریضوں کو فوری دیکھ بھال کی ضرورت ہے انہیں بہ حفاظت باہر نکالا جانا چاہیے۔
غزہ میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں:یواین
نیویارک، 17نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے کے سربراہ وولکر ترک نے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے سنگین الزامات کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو غزہ کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے وولکر ترک کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی متعدد اور گہری خلاف ورزیوں کے انتہائی سنگین الزامات ہیں، جو بھی ان کا ارتکاب کر رہا ہے یہ سب کچھ تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔



