یورپی یونین: اسرائیل سے سیاسی مذاکرات معطل کرنے کی تجویز
یہ معاہدہ نہ صرف سیاسی بات چیت بلکہ صنعت، توانائی، ٹرانسپورٹ اور سیاحت جیسے شعبوں میں اقتصادی تعاون کا احاطہ کرتا ہے
برسلز، 18نومبر (ایجنسیز)برسلز میں پیر کے روز یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں یوزیپ بوریل غزہ کی جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ سیاسی مذاکرات کو معطل کرنے کی تجویز پیش کرنے والے ہیں۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ یوزیپ بوریل نے میٹنگ شروع ہونے سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ قدم ”غزہ جنگ میں بین الاقوامی قانون کے احترام کے متعلق یورپی یونین کی جانب سے مسلسل ایک سال تک کی جانے والی درخواستوں کو اسرائیلی حکام کی طرف سے نظر انداز کرنے کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔
بوریل اس کے علاوہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں، میں اسرائیلی آبادیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگادی جائے۔یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ نے اکتوبر میں کہا تھا کہ وہ وزرائے خارجہ کے اگلے اجلاس میں غزہ اور لبنان کے تنازعات میں اسرائیل کے طرز عمل پر بحث کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔
یورپ اور اسرائیل کے درمیان سیاسی مکالمت یورپی یونین اسرائیل ایسوسی ایشن کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے، جو باہمی شراکت داری کو مستحکم کرنے کے خاطر باقاعدہ تبادلہ خیال کے لیے سن 2000 میں شروع ہوا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان تعلقات انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے لیے احترام پر مبنی ہوں گے۔اسپین اور آئرلینڈ نے کئی ماہ پہلے ہی تجویز دی تھی کہ اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے شراکت داری کے معاہدے کا جائزہ لیا جائے۔
یہ معاہدہ نہ صرف سیاسی بات چیت بلکہ صنعت، توانائی، ٹرانسپورٹ اور سیاحت جیسے شعبوں میں اقتصادی تعاون کا احاطہ کرتا ہے۔یورپی یونین کے سفارت کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ادارہ جاتی سیاسی مذاکرات کو معطل کرنے کا مطلب اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن کے معاہدے کو معطل کرنا نہیں ہے۔اس اقدام سے ایسوسی ایشن کونسل بھی معطل نہیں ہوگی، جس کا قیام یورپی یونین اسرائیل معاہدے کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا اور جو فریقین کے درمیان تعلقات کے حوالے سے سب سے اہم ادارہ ہے۔



