
سیاسی پناہ کی درخواستوں میں اضافے پر یورپی ممالک پریشان
پناہ کی پہلی درخواستیں دینے والوں میں سب سے زیادہ تعداد شامی اور افغان باشندوں کی ہے
لندن،29مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پناہ کی پہلی درخواستیں دینے والوں میں سب سے زیادہ تعداد شامی اور افغان باشندوں کی ہے۔ نئی درخواستوں میں سے تین چوتھائی سے زائد جرمنی، اسپین، فرانس اور اٹلی کو موصول ہوئیں۔یورپی یونین میں رواں سال فروری میں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا۔ اس امر کا انکشاف یورپی یونین کے اعداد وشمار کے ادارے یورواسٹاٹ کی منظر عام پر آنے والی تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق رواں برس فروری میں ساڑھے چھہتر ہزار سے زائد افراد نے یورپی اتحاد میں شامل ممالک میں پناہ کے حصول کے لیے درخواستیں دائر کیں۔
ان درخواست دہندگان میں سے زیادہ تر افغان اور شامی باشندے تھے جبکہ ان کے بعد کولمبیا اور وینزویلا کے باشندے آتے تھے۔ یورور اسٹیٹ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ تین چوتھائی سے زیادہ درخواستیں جرمنی، اسپین، فرانس اور اٹلی میں دی گئیں۔ مزید یہ کہ ان درخواست گزاروں میں ساڑھے ستائیس سو کے لگ بھگ ایسے نابالغ افراد بھی شامل تھے، جن کے ساتھ کوئی سرپرست نہیں تھا۔قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کی ہجرت کا موضوع ان دنوں زیادہ تر یورپی ممالک میں حکومتی سطح پر زیر بحث ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔
یوکرین اور شام جیسے جنگ زدہ علاقوں کے علاوہ سیاسی بنیادوں پر ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہو کر اپنے آبائی ممالک کو خیرباد کہنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی بڑی تعداد یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ یورواسٹیٹ کی اس رپورٹ سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ جنگ زدہ ملک یوکرین سے پناہ کے حصول کے لیے درخواست دہندگان کی تعداد فروری 2022ء میں 2,195 سے بڑھ کر مارچ 2022ء تک 12,190 تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم ایسے یوکرینی باشندوں کی تعداد رواں برس کم ہو کر گیارہ سو تک رہ گئی۔



