سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

رمضان میں بھی بہترین غذائیں جو آپکو سلم اور اسمارٹ بنائیں

ا یم نعمان

بلیوبیریز:روزانہ مٹھی بھربلیوبیریز سے آپ اپنی خوراک میں رنگ بھرسکتے ہیں۔ یہ نیلی بیریاں جامن سے الگ ہوتی ہیں اور ہندستان کے سپر اسٹورز میں بھی دستیاب ہیں۔ 40 پھلوں اور سبزیوں کی جانچ پڑتال میں یہ دیکھا گیا کہ بلیوبیریز میں اینٹی آکسیڈئٹس کی سطح بلند ترین ہوتی ہے۔

جو ہمارے جسم کونقصانات اور بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ ریسرچ سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بلیوبیریز جھریوں اور جلد پرپڑنے والی شکنوں سے محفوظ اور پڑھاپے میں بھی ذہن کوفعال رکھتی ہیں۔

رس بھری:ولایتی رس بھری میں ریشے یا فائبر کے علاوہ آئرن، پوٹاشیم، وٹامنز اے اورسی کی بہتات ہوتی ہے۔ رس بھری میں وہ قدرتی مرکبات بھی ہوتے ہیں جوامراض قلب کا مقابلہ کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں اور بظاہر کینسر کا خطرہ کم کرنے میں بھی مددگار ہوتے ہیں۔

بروکولی:ریسرچ سے یہ معلوم ہواہے کہ بروکولی(پھول گوبھی جسی سبزرنگ کی ترکاری) سے چھاتی اور پروسٹیٹ کے سرطانوں سے تحفظ ملتا ہے کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈئٹس مادوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں جسم میں موجودہ فاسد مادوں کو ختم کرنے والے اجزاء بھی اس میں ہوتے ہیں۔

کولیسٹرول کی سطح کم کرنے اور بلڈپریشرگھٹانے میں بھی اس کا کردار ہوتاہے۔ مزید یہ کہ اس سبزی میں سنگترے سے زیادہ وٹامن سی پایا جاتاہے اور آئرن نیز دیگر وٹامنز کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔

سنگترے؍کینو:رس دار پھلوں میں نارنگی یا کینو کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ نہ صرف ہمیں کینسر، دل کی بیماریوں، انفیکشنراور سوزشوں سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ انہیں کولیسٹرول اور بلڈپریشرکم کرنے والا بھی سمجھا جاتاہے۔

نزلہ زکام سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے اس میں وٹامن سی بھی کافی ہوتاہے۔ اس پھل کی اضافی خوبی یہ ہے کہ ایک درمیانے سائز کے سنگترے میں صرف 56 کیلوریز ہوتی ہیں اور چکنائی صرف نام کو ہوتی ہے۔

بندگوبھی:بندگوبھی اینٹی آکسڈئٹس سے بھرپوراور جسم سے فاسد مادوں کی قدرتی صفائی کرنے والی ہوتی ہے۔ بندگوبھی کو باقاعدگی سے اپنی غذا میں شامل کرکے زیادہ وزنی افراد اپنا وزن کم کرسکتے ہیں کیونکہ اس میں ریشے بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اسے کھانے سے دیر تک پیٹ بھرارہنے کا احساس ہوتاہے۔ بندگوبھی جسے کرم کلا بھی کہتے ہیں، چھاتی، پروسٹیٹ اور قولون کے سرطان سے بھی تحفظ کرتی ہے۔

گندنا:لہسن اور پیاز کے پتوں جیسی ایک سبزی گندنا Leeks کہلاتی ہے۔ جو لوگ اپنا وزن کم رکھنا چاہتے ہیں انہیں اس سبزی پرتوجہ دینی چاہیے کیونکہ اس میں حرارے بہت کم اور آئرن اور مینکا نیز جیسی قدرتی منرلز بہت ہوتی ہیں۔ جو کھانا ہضم کرنے کیلئے خامروں کو متحرک کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں گندنا میں وٹامن بی اور سی بھی ہوتے ہیںجوخون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھتے ہیں۔

ٹماٹر:ٹماٹرکو’’کرشماتی پھل‘‘ کہاجاتا ہے کیونکہ اس میں حقیقی معنوں میں کوئی چکنائی نہیں ہوتی۔ انہیں کھانے سے بہت کم حرارے ملتے ہیں۔ ایک درمیانے سائزکے ٹماٹر سے دس سے پندرہ کیلوریز ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈائٹنگ کرنے والوں کیلئے یہ آئیڈیل غذا ہے۔ ٹماٹر وٹامنز اے سی اور ای کی بہتات ہوتی ہے اور اسے کھانے سے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوتاہے۔

اسٹرابیریز:اسٹرابیریزمیں پانی کی زیادہ مقدار کے باعث کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ اگربڑے پیالے میں بھرکراسٹرابیریز کھائی جائیں تو صرف 27 حرارے ملیں گے۔ اس میں وٹامن سی بھی بہت زیادہ ہوتاہے۔

ریسرچ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اسٹرابیریز کھانے والے افراد اپناوزن صحت مند حد کے اندر رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ بات دھیان میں رہے کہ اسٹرابیریز کے ساتھ ڈھیرساری بالائی یاکریم شامل نہ کی جائے۔

پیاز:ماہرین کے مطابق ہفتے میں دو سے تین پیاز کھائی جائیں تو اس سے صحت پرکافی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پیاز میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ نزلہ زکام سے لیکر قولون، پروسٹیٹ اور چھاتی کے سرطان تک سے تحفظ فراہم کرتاہے۔ ان میں کرومین کی سطح بھی بہت بلند ہوتی ہے جس سے جسم میں ہارمون کی سطح متوازن رہتی ہے اور خواتین میں ایام کی تکالیف کااحساس کم ہوتاہے۔

سیب:سیب کے حوالے سے یہ جملہ تو اب ضرب المثل بن چکا ہے کہ ’’روزانہ ایک سیب کھائیں اور ڈاکٹروں سے دوررہیں‘‘ جس میں بڑی حد تک صداقت ہے کیونکہ دیگر سپرفوڈز کی طرح سیب بھی ہمیں امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے۔ سیب میں شامل پیکٹن کولیسٹرول کم کرتاہے اور جسم کو فاسد مادوں سے نجات دلاتاہے۔

برازیل نٹس:گری دارمیووں کی تمام قسمیں ضروری وٹامنز، منرلنر اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مغزیات وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کیلئے بہترین ناشتے کاسامان ہوتی ہیں۔ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ مٹھی بھرمغزیات کھانے سے بڑی حد تک بھوک مٹ جاتی ہے اور جنک فوڈز کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔

اگرہفتے میں چار باران کو اپنی خوراک میں شامل کیاجائے تو اس سے دل کی بیماری کاخطرہ کم ہوتاہے۔ برازیلی نٹس کے حوالے سے کہاجاتا ہے کہ اسے کھانے سے افسردگی دورہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کینسر اور الزائمر کی بیماری سے بھی حفاظت ہوتی ہے۔

ڈارک چاکلیٹ:چاکلیٹ آئرن، میلنیشم اور فاسفورس کے حصول کا اہم ذریعہ ہے تاہم گہرے رنگ کی چاکلیٹ کوملک یا سفید چاکلیٹ پرترجیح دینے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ڈارک چاکلیٹ میں کوکوا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ چاکلیٹ کے جس بار میں کوکوا کی مقدار جتنی کم ہوگی، اس میں اسی قدر زیادہ کیلوریز اور جمنے الی چکنائی شامل ہوگی، اس لئے ہمیشہ ڈارک چاکلیٹ کوفوقیت دینی چاہیے۔

جس کی ایک مثال گرین اینڈ بلیکس ہیں جس کے 36 گرام کے ایک بار میں 193 کیلوریز اور 14.4 گرام چکنائی ہوتی ہے۔ ڈارک چاکلیٹ میں کینسر کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس ڈھیر سارے ہوتے ہیں۔

کیلا:کیلے کے بارے میں یہ عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اسے کھانے سے جسم فربہ ہوتاہے۔ یہ بات اگرچہ درست ہے کہ دیگر پھلوں کے مقابلے میں اس میں زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں لیکن جولوگ ورزش کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے ورزش سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں جسم کو توانائی فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ کیلئے ہوسکتے ہیں۔

کیلئے میں پوٹاشیم کی قابل ذکر مقدار ہوتی ہے جس سے بلڈپریشرکم کرنے میں مددملتی ہے۔ اس میں وٹامن بی بھی زیادہ ہوتاہے جو جلد اور بالوں کو صحت مند رکھتاہے۔

چقندر:چقندر میں طاقتوراینٹی آکسیڈنٹ کے باعث کھال نقصانات سے محفوظ رہتی ہے۔ چقندر میں چونکہ کوئی چکنائی نہیں ہوتی اور حرارے بہت کم ہوتے ہیں اس لئے خون میں شکر کی سطح مستحکم رہتی ہے اور جو لوگ اپنے وزن کو ایک حد کے اندر رکھنا چاہتے ہیں، اس کیلئے یہ ایک مثالی غذا ہے۔

مٹر:مٹر کے چھوٹے سبزدانے وٹامنز اے اور سی اورآئرن کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں۔ 85 گرام مٹر کے دانے کھانے سے صرف50 کیلوریز ملتی ہیں۔ مٹر کودال کے طورپراستعمال کرنے سے ہمیں پروٹین ،کاربوہائیڈریٹ اور فائبرکی وافرمقدار مل سکتی ہے جبکہ اس میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button