
امت شاہ کے بیان کی سخت مخالفت جاری، کے ٹی آر کا جوابی حملہ،میں انگریزی اور اردو بولتا ہوں
حیدرآباد/10اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندی کی لازمیت یااس کے فروغ پرجنوبی ہندکی ریاستوں نے مضبوط مخالفت کی ہے۔ہندی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے تبصرے پر طنز کرتے ہوئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے کارگزار صدر اور ریاستی حکومت کے وزیر کے ٹی راما راؤنے کہاہے کہ ملک اس کا الٹا اثر توہم پرستی اور زبان کے غلبہ کی وجہ سے دیکھے گا۔ انہوں نے کہاہے کہ عالمی امنگوں والے ملک کے نوجوانوں پر ہندی مسلط کرنا بہت نقصان دہ ثابت ہوگا۔
راما راؤنے ہیش ٹیگ StopHindiImposition کے ساتھ ٹویٹ کیاہے کہ امت شاہ جی تنوع میں اتحاد ہماری طاقت ہے۔ ہندوستان ریاستوں کا اتحاد ہے ۔ہم اپنے عظیم ملک کے لوگوں کو یہ فیصلہ کیوں نہیں کرنے دیتے کہ کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، کس کی پوجاکرنی ہے اور کونسی زبان بولنی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ میں پہلے ہندوستانی ہوں، پھر ایک قابل فخر تیلگو اور تلنگانہ کا باشندہ ہوں۔
میں اپنی مادری زبان تیلگو، انگریزی، ہندی اور تھوڑی بہت اردوبھی بول سکتا ہوں۔ ہندی کو مسلط کرنا اور انگریزی کی بے عزتی کرنا ملک کے ان نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا جو عالمی خواہشات رکھتے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ ہندی کو انگریزی کے متبادل کے طور پر قبول کیا جاناچاہیے، مقامی زبانوں کے نہیں۔
مرکزی وزارت داخلہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق امت شاہ نے یہاں سرکاری زبان سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے 37ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت چلانے کا ذریعہ سرکاری زبان ہے اور یہ یقینی طور پر ہندی کی اہمیت کو بڑھاناہے۔



