بین الاقوامی خبریںسرورق

مجبوراً غزہ چھوڑنے والے ہر فرد کو اپنے گھر واپس آنے کا حق ہے: کملا ہیرس

غزہ چھوڑنے پر مجبور ہونے والے لوگوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کا حق حاصل ہے۔

دبئی، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ وہ بچوں اور معصوم شہریوں کو کھونے کے درد کو سمجھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی شخص کسی حد تک درد محسوس کیے بغیر تصویروں کو نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی غزہ میں مصائب کی کہانیاں سن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تاکہ انسانی امداد کی آمد کو یقینی بنایا جا سکے اور شہریوں کے لیے محفوظ راستہ بنایا جا سکے۔ غزہ چھوڑنے پر مجبور ہونے والے لوگوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کردیا۔کملا ہیرس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن مشرق وسطیٰ کے لیے روانگی سے قبل واشنگٹن میں اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے دورے کے دوران فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات پر توجہ دیں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ حالیہ دنوں میں ہم نے فلسطینی شہریوں کو اس تنازعے کا مسلسل نقصان اٹھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

ہم غزہ میں مردوں، عورتوں اور بچوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے بارے میں بات کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید امدادی ٹرک غزہ پہنچیں گے۔بلنکن نے عہد کیا کہ وہ غزہ کے اطراف بستیوں پر 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے حماس کے زیر حراست قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ انہوں نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے یکساں طور پر پائیدار امن کے حصول کے لیے حالات پیدا کرنے کی ضرورت کی نشاندہی کی۔انہوں نے خطے میں کشیدگی کو روکنے کے لیے واشنگٹن کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی حکومت اور خطے میں شراکت داروں سے بات کریں گے تاکہ تنازع کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کے حکام نے جمعرات کو کہا کہ سکریٹری آف سٹیٹ بلنکن اسرائیلی حکومت پر زور دیں گے کہ وہ غزہ میں فوجی کارروائیوں میں مختصر توقف اختیار کریں تاکہ قیدیوں کی بحفاظت رہائی اور انسانی امداد کی تقسیم کی اجازت دی جا سکے۔بدھ کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس سے قبل 20 اکتوبر کو دو امریکیوں جوڈتھ رانان اور ان کی بیٹی نتالی رانان کی رہائی کی اجازت دینے کے لیے بمباری کو مختصر طور پر روکنے پر اتفاق کیا تھا۔


اسرائیل نے غزہ، لبنان میں فاسفورس بموں کا استعمال کیا: ایمنسٹی انٹرنیشنل

نیویارک ، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیل نے غزہ اور لبنان کے سرحدی علاقے میں دونوں جگہ اپنے حملوں کے دوران فاسفورس بم استعمال کیے ہیں۔ اس امر کا باضابطہ انکشاف انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کیا ہے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل کی سینئر کرائسس ایڈوائزر ڈونیٹیلا رویرا کے مطابق ایمنسٹی نے تصدیق کی ہے اسرائیل غزہ کی گنجان ترین آبادی کے خلاف اور لبنان کی سرحدی آبادیوں کے ساتھ ساتھ سفید فاسفورس بم استعمال کرنے کے مرتکب ہوا ہے۔ایمنسٹی نے برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز لندن کے سامنے یہ انکشاف کیا ہے۔ کرائسس ایڈوائزر کے مطابق ایمنسٹی کے پاس فاسفورس بموں کے اسرائیلی استعمال کی ویڈیو فوٹیجز بھی موجود ہیں جس سے صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ پر سفید فاسفورس استعمال کی جارہی ہے۔اسی طرح کی فوٹیجز لبنان کے سرحدی علاقوں کے حوالے سے ہیں۔ فاسفورس بموں کے استعمال کی تصدیق لبنان میں داکٹروں نے بھی کی ہے۔

رویرا نے عالمی برادری کی اس جانب بے عملی کی مذمت کی ہے۔ کہ وہ دور تک پھیلی اس تباہی کے باوجود انسانی بحران کو روکنے میں کردار ادا نہیں کر رہی ہے۔واضح رہے امریکہ اور مغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ غزہ کی صورت حال کی کوریج کر رہے ہیں لیکن اس بارے میں انہوں نے کوئی چیز رپورٹ نہیں کی ہے۔اس سے پہلے لبنانی ڈاکٹروں کے حوالے سے ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں تاہم اس کی کسی اور ادارے سے تصدیق کا ہونا باقی تھا۔ لبنان کے سرحدی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے بعد کئی گھنٹوں تک آگ کے بھڑکتے رہنے کی وجہ بھی فاسفورس بموں کا استعمال ہی بتایا گیا تھا۔اب عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے ایمنسٹی انٹرنشنل نے اپنے انداز میں اس کی تصدیق بھی کی ہے اور ویڈیو فوٹیجز بھی پیش کر دی ہیں۔ جس سے مزید کسی تصدیق کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔

ایمنسٹی کی نمائندہ نے کہا ‘بین الاقوامی قانون کی پابندی کا اہتمام نہیں کیا جارہا ہے۔ اس لے ضرورت ہے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔بین الاقوامی قوانین کے تحت کیمکل ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے اور فاسفورس بموں کا استعمال اسی زمرے میں آتا ہے۔غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 9000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں۔


اسرائیل -حماس جنگ: ایف بی آئی کو امریکہ میں پر تشدد کارروائیوں کا اندیشہ

نیویارک، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ کی داخلی سیکیورٹی کے انٹیلی جنس ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد امریکہ میں بھی پر تشدد کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔کرسٹوفر رے نے امریکی سینیٹ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی میں حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کو کیے گئے حملے کے بعد امریکہ کے لیے ممکنہ خطرات کے حوالے سے ایک تفصیلی صورتِ حال بیان کی۔امریکی قانون سازوں کو آگاہ کرتے ہوئے کرسٹوفر رے نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں متعدد غیر ملکی انتہا پسند گروہوں نے امریکی شہریوں اور مغربی ممالک میں حملوں کی دھمکیاں دی ہیں۔خبر رساں کے مطابق ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ ان کی ایجنسی نے حماس اور اس کے اتحادیوں کی کارروائی کا تجزیہ کیا ہے جو انتہا پسند گروپوں کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہے اور ایسا کئی برس قبل داعش کی نام نہاد خلافت کے اعلان کے بعد سے اب تک نہیں دیکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شدت پسند تنظیم داعش نے لگ بھگ ایک دہائی قبل شام اور عراق کے کئی علاقوں پر قابض ہو کر جون 2014 میں اپنی خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا اور ابوبکر البغدادی کو خلفیہ مقرر کیا تھا۔اکتوبر 2019 میں امریکہ نے شام میں ایک کارروائی میں بغدادی کو ہلاک کر دیا تھا۔ ابوبکر البغدادی کے خلاف کامیاب آپریشن کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے سینیٹ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی میں بیان میں داعش کی انتہا پسندی سے متاثر ہونے والے افراد کی امریکہ میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اسے ناکام بنانے میں ایف بی آئی کے کردار کی جانب اشارہ کیا۔اب مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں ایک بار پھر اسی طرح کی صورتِ حال کا سامنا ہونے کی نشان دہی کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button