کچی سبزیاں اور پھلوں کا استعمال جگرکی گرمی کا علاج کہلائی جاتی ہیں یہ جگر کی صفائی کرتی ہیں اور اس میں ہونے والے نقصانات کو بھرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ماہرین تمام افراد کو اپنی غذا میں سبزیوں اور پھلوں کے باقاعدگی سے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔لیکن ایسے مریض جن کو پہلے ہی ذیابطیس، یا پولی سسٹک اووری کی شکایت ہو ایسے افراد کو پھلوں کے استعمال میں تھوڑا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ پروٹین سے بھر پور غذائیں جن میں انڈے، گوشت اور دالیں وغیرہ شامل ہیں ان کے استعمال سے خون میں شوگر لیول کو اعتدال میں رکھا جا سکتا ہے جس سے جگر کے ورم میں بہت افاقہ ہوتا ہے
اس کے علاوہ غیر حل پزیر چکنائی کا استعمال جگر کے ورم کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ عام طور پر مارجرین، اور دیگر ایسی چکنی چیزیں جو غیر حل پزیر ہوتے ہیں ان کا استعمال خطرناک ثابت ہوتا ہے اور جگر کی گرمی کو بڑھانے کا سبب بن جاتے ہیں
سبزیوں کے جوس کا استعمال
کچی سبزیوں کا جوس پینا صحت کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔ یہ وٹامن،اینٹی آکسیڈنٹ اور منرل سے بھر پور ہوتا ہے۔ سبزیوں کے جوس پھلوں سے اس حوالے سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں کیوں کہ ان میں زیادہ مٹھاس اور کیلوریز موجود نہیں ہوتی ہیں اس وجہ سے دن میں کم از کم ایک سے دو بار سبزیوں کے پھلوں کا لازمی استعمال کریں۔
جگر کو طاقت دینے والا ٹانک
جگرکی گرمی کا علاج کے لئے اب ایسے ٹانک موجود ہیں جو کہ جگر کو طاقت بخشتے ہیں جس کی مدد سے وہ اپنے افعال بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں یہ ٹانک جگر کے خراب حصوں کی مرمت کرتا ہے۔
جگرکی گرمی کا علاج کے لئے ان تمام اشیا سے اگر فائدہ نہ ہو تو اس کے لئے ایک ماہر ڈاکٹر کی خدمات لینا بہت ضروری ہوتا ہے کیوں کہ جگر انسانی جسم کا ایک بنیادی رکن ہے اور اس میں خرابی پورے جسم کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
جگرکی گرمی کا علاج کروانے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ماہر ڈاکٹروں سے ہی رجوع کریں اس کے علاوہ عام طور پر لوگ مختلف قسم کے ٹوٹکے استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ ٭



