سرورققومی خبریں

بیوی سے گھر کے کام اور امور خانہ داری کی توقع کرنا ظلم نہیں: ہائی کورٹ

بیوی سے گھریلو کام کی توقع رکھنا ظلم نہیں ہے

نئی دہلی،7مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اگر شوہر، بیوی سے گھر کا کام کرنے کی توقع رکھتا ہے تو اسے ظلم میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی ہائی کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ بیوی سے گھریلو کام کی توقع رکھنا ظلم نہیں ہے کیونکہ شادی کے بعد شوہر اور بیوی دونوں کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔شوہر کی مالی ذمہ داری ہے جبکہ بیوی کی گھر کی ذمہ داری ہے۔ ایسی صورت حال میں بیوی کو گھر کا کام کرنے کے لیے کہنا ایک نوکرانی کے طور پر کام کرنے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ جسٹس سریش کمار کیت اور نینا بنسل کرشنا کی بنچ نے اس معاملے میں ظلم کی بنیاد پر طلاق سے انکار کرنے کے خاندانی عدالت کے فیصلے کو ایک طرف رکھ دیا۔

اس جوڑے کی شادی سال 2007 میں ہوئی تھی اور ان دونوں کا ایک بچہ بھی ہے۔ عدالت نے بیوی کے ظلم کی بنیاد پر شوہر کو طلاق دے دی۔ عدالت نے کہا کہ شوہر نے شروع سے ہی اپنی شادی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔اس کے لیے الگ گھر کا بھی انتظام کیا۔ تاہم، کسی نہ کسی بہانے خاتون نے اپنا ازدواجی گھر چھوڑ دیا اور اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگی۔ تمام دلائل سن کر عدالت نے کہا کہ بیوی پورے خاندان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ عورت نے نہ صرف اپنی ازدواجی ذمہ داریوں کو نظر انداز کیا بلکہ اپنے شوہر کو اپنے بیٹے کی ولدیت سے بھی دور رکھ کر محروم کر دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button