برلن ، ۲؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بھارت میں تعینات #جرمن سفیر نے بالواسطہ طور پر کہا ہے کہ بھارتی شہریوں کے جرمنی آنے پر فی الحال #پابندی عائد رہے گی اور حالات بہتر ہونے کے بعد ہی بعض سفری پابندیاں ختم کی جا سکیں گی۔ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارت میں #جرمنی کے سفیر والٹر لِنڈنر کا کہنا تھا کہ جب سفری پابندیاں ختم ہوجائیں گی، تب ہم ان بھارتیوں کا اور بالخصوص طلبہ کا، جو ہماری بین الاقوامی برداری کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں،جرمنی میں ایک بار پھر خیر مقدم کریں گے جنہوں نے کووڈ کے دونوں #ٹیکے لگوا لیے ہوں گے۔
جرمن سفیر کا کہنا تھاکہ بیشتر ممالک #کورونا #وائرس کی نئی قسم سے خوف زدہ ہیں۔ اور خود بھارت بھی کسی دوسرے #ملک سے اپنے ہاں کورونا کی کسی بھی نئی قسم کو پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔ اس لیے بیشتر یورپی #ممالک نے بعض سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔جب جرمن سفیر سے پوچھا گیا کہ جو لوگ ’کووی شیلڈ‘ ویکسین لگوا چکے ہیں، آیا انہیں بھی جرمنی میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی حالانکہ اب جرمنی سمیت سات یورپی ملکوں نے ’کووی شیلڈ‘ کے مؤثر ہونے کو تسلیم بھی کر لیا ہے، تو والٹر لِنڈنر نے کہا کہ جن لوگوں نے کووی شیلڈ ویکسین لگوائی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں اب جرمنی میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔
سفر پر اب بھی پابندی ہے۔ جو بھارتی سفر کرنا چاہتے ہیں وہ کووی شیلڈ لگوا کر اسے اینٹی کووڈ ویکسی نیشن کے ثبوت کے طور پر پیش کر کے یورپ کا سفر کر سکتے ہیں،لیکن یہ کوئی انٹری کارڈ نہیں ہے۔ سفری پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے یورپی یونین کی میڈیسن ایجنسی نے بھارت میں لگائی جانے والی کوویکسن اور کووی شیلڈ نامی دونوں ویکسینز کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس وجہ سے یورپی ملکو ں کا سفر کرنے والے بھارتیوں کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق اب جرمنی کے علاوہ چھ دیگر یورپی ممالک آسٹریا، سلووینیا، یونان، آئرلینڈ اور اسپین نے بھی کووی شیلڈ کو تسلیم کر لیا ہے۔جرمن سفیر نے امید ظاہر کی کہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے، مجھے امید ہے کہ سفر کا سلسلہ جلد ہی بحال ہو جائے گا۔ جرمنی اور یورپ میں اس وقت تیسری لہر ہے جبکہ بھارت میں بھی اس کا خدشہ ہے، ہم دعا کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔



