ہندوستان کی ’سیاسی ‘جیت: ممبئی حملے کے مجرم تہور رانا کی ہندوستان حوالگی کی راہ ہموار ہوگئی
امریکی صدر ٹرمپ نے تہور رانا کو بھارت کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی
نئی دہلی، 14فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ٹرمپ نے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے مجرم تہور رانا کو بھارت کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اس کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ نے بھی تہور رانا کی حوالگی کو منظور کرتے ہوئے ان کی سزا پر نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔پاک نژاد کینیڈین تاجر تہور رانا پر 2008 کے ممبئی حملوں میں کلیدی رول ادا کرنے کا الزام ہے۔ہندوستان نے امریکہ کو شواہد بھیجے تھے، جن میں رانا کا نام اور اس کی فراہم کردہ مدد کا ذکر تھا۔تہور رانا نے امریکی عدالت میں اپنی سزا کیخلاف کئی قانونی لڑائی لڑی تھیں،لیکن وہ ہار گئے تھے۔ممبئی پولیس نے تہور رانا کا نام اپنی چارج شیٹ میں شامل کیا تھا۔
تہور رانا پر دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے لیے کام کرنے اور ڈیوڈ ہیڈلی کے تعاون کا الزام ہے۔ڈیوڈ ہیڈلی نے تہور رانا کے ساتھ مل کر ممبئی حملوں کی جگہوں کا ریکی کی تھی ۔تہور رانا اور ڈیوڈ ہیڈلی بچپن کے دوست ہیں۔ ڈیوڈہیڈلی امریکی شہری تھا اور تہور رانا پاکستان سے کینیڈا فرار ہوا تھا۔تہور رانا نے شکاگو میں ایک کنسلٹنسی فرم شروع کی تھی، جس کے ذریعے اس نے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میںڈیوڈ ہیڈلی کی مدد کی تھی۔یاد رہے کہ 26 نومبر 2008 کو لشکر کے 10 دہشت گرد سمندر کے راستے ممبئی میں داخل ہوئے اور ایسی سفاکی انجام دی کہ پوری ممبئی شہر دہل گئی۔
بحری راستے کے ذریعہ پاکستان سے آئے دہشت گردوں نے 9 مقامات پر دھماکے کیے جن میں سے 8 جنوبی ممبئی میں تھے – چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس، اوبرائے ٹرائیڈنٹ ہوٹل، تاج ہوٹل، لیوپولڈ کیفے، کاما اسپتال، نریمن ہاؤس، میٹرو سنیما، ٹائمز آف انڈیا بلڈنگ اور سینٹ زیویئر کالج کے قریب کا علاقہ۔ ممبئی کے بندرگاہی علاقے مج گاؤں اور ویل پارلے میں بھی ٹیکسیوں میں دھماکے ہوئے۔ ممبئی پولیس اور سیکورٹی فورسز نے 28 نومبر کی صبح تک تقریباً تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے محفوظ کرلیا ؛لیکن وہ تاج ہوٹل میں چھپے دہشت گردوں کو نہیں پکڑ سکے۔ انہیں پکڑنے کے لیے نیشنل سکیورٹی گارڈز (این ایس جی) کی مدد لینی پڑی جس نے 29 نومبر کو’آپریشن بلیک ٹورنیڈو‘کیا اور تاج ہوٹل میں چھپے دہشت گردوں کو مار گرایا۔
ممبئی میں دہشت گردی کا دورانیہ 72 گھنٹے تک جاری رہا۔ ممبئی حملوں میں 6 امریکی شہریوں سمیت کل 166 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔خیال رہے کہ ممبئی حملے میں ایک دہشت گرد عامر اجمل قصاب زندہ پکڑا گیا تھا، جس نے اقرار کیا تھا کہ وہ پاکستان سے آیا ہے، اور پاکستان کے پنجاب کے فرید کوٹ کا رہنے والا ہے۔



