نئی دہلی ،13مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دارالحکومت نئی دہلی سمیت شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں اس وقت چلچلاتی دھوپ سے کوئی راحت کی اُمید نہیں ہے۔ نئی دہلی میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات نے آئندہ تین روز کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے شدید گرمی کے ساتھ لو کا بھی امکان ظاہر کردیاہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے محکمہ موسمیات نے لوگوں کو الرٹ رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھی پارہ 42 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جس کی وجہ سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو دارالحکومت دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے تین زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت معمول سے چار زیادہ 29.5 ڈگری سیلسیس رہا۔ ہوا میں نمی کی سطح 32 سے 69 فیصد تک رہی۔ محکمہ موسمیات کے سینئر سائنسداں کا کہنا ہے کہ آئندہ تین روز میں شدید گرمی کا امکان ہے۔ ایسے میں لوگوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز کے لیے یلو الرٹ جاری کرتے ہوئے شدید گرمی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وہیں15 مئی2022 کے لیے محکمہ نے اورنج الرٹ جاری کیا ہے ،اور بعض مقامات پر شدید گرمی کی لہر کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 اور کم سے کم درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ محکمہ نے پیش گوئی کی ہے کہ 16 مئی سے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوگی جس سے راحت ملنے کا امکان ہے۔ وہیں یوپی کے بیشتر علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ لوگ گرمی سے بے حال نظر آ رہے ہیں۔ دوپہرکے وقت بازاروں میں خاموشی چھا گئی۔ گزشتہ دو دنوں سے شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کا برا حال ہے۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل زرعی یونیورسٹی کے ماہر موسمیات ڈاکٹر یوپی شاہی نے کہا کہ اس ہفتے موسم صاف رہے گا اور درجہ حرارت بڑھے گا۔
راجستھان کے بیشترحصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری سیلسس سے 48.1 ڈگری سیلسس کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔ وہیں ریاست کے مغربی حصے کے تمام اضلاع میں چلچلاتی گرمی اور گرمی کی لہر کی وجہ سے زندگی متاثر ہوئی ہے۔تاہم ایک راحت کی خبر ہے کہ اس سال جنوب مغربی مانسون ملک میں مقررہ وقت سے پہلے پہنچ سکتا ہے ،اور جزائر انڈمان اور نکوبار میں 15 مئی کو موسم کی پہلی بارش ہونے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوب مغربی مانسون 15 مئی 2022 کے آس پاس بحیرہ انڈمان اور جنوب مشرقی خلیج بنگال تک پہنچنے کا امکان ہے۔



