قومی خبریں

دہلی میں شدید گرمی نے توڑا 74 سال کا ریکارڈ، 70 سے زیادہ اموات

گرمی کی لہر کے دنوں کی تعداد نے گزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔

نئی دہلی، 21 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی میں گزشتہ چند ہفتوں میں شدید گرمی کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور گرمی کی لہر کے دنوں کی تعداد نے گزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس موسم گرما میں دیکھے گئے ہیٹ ویو کے دنوں کی تعداد گزشتہ 74 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔صرف گرمی کی لہر ہی نہیں بلکہ اس سال مئی اور جون کے درمیان دہلی میں جس طرح کی گرمی دیکھی گئی اس نے پہلے ہی کئی ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ گزشتہ ماہ 29 مئی کو دہلی میں درجہ حرارت 46.8 ریکارڈ کیا گیا، جو کہ 29 مئی 1944 کو ریکارڈ کیے گئے 47.2 ڈگری کے بعد یہ دوسرا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔ 1998 میں دہلی کا درجہ حرارت 46.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ گزشتہ کئی دہائیوں میں ایسے لگاتار 7 نہیں گزرے جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ رہا ہو لیکن اس مرتبہ ایسا ہی ہوا ہے۔

اس سے قبل 1998 میں لگاتار 4 دن ایسے تھے جب درجہ حرارت 45 ڈگری سے زیادہ تھا۔مزید برآں، موجودہ مرحلے میں مسلسل 6 دنوں تک ‘گرم رات’ کے حالات رہے (جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت معمول سے کم از کم 4.5 ڈگری زیادہ ہو)۔ 19 جون کو رات کے وقت 35.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو 1964 کے بعد دارالحکومت میں سب سے زیادہ کم سے کم درجہ حرارت تھا۔آئی ایم ڈی کے مطابق، گرمی کی لہر کا دن وہ ہوتا ہے جب زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت یا تو 45 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ ہو، یا جب یہ 40 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہو اور معمول سے کم از کم 4.5 ڈگری سیلسیس زیادہ ہو۔غنیمت کی بات یہ ہے کہ دہلی میں گزشتہ دو دنوں سے موسم خوشگوار ہے۔آج دہلی اور خطہ قومی راجدھانی میں ہلکی بوندا باندی سے بلاخیز سے گرمی سے لوگوں کو وقتی طور پر نجات ملی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button