ایم پی: تیز بخار سے مریض کی موت، 15 ماہ بعد جعلی ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج
41 سالہ مریض کی موت کے بعد ایف آئی آر درج
اندور :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے اندور میں تیز بخار کے ایک 41 سالہ مریض کی موت کے 15 ماہ بعد، ایک مبینہ فرضی ایلوپیتھی ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جمعہ کو اس بارے میں معلومات دیتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کے پاس ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی کوئی ڈگری نہیں ہے۔
چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر مادھو پرساد حسنی نے کہا کہ اندور کی رہنے والی آرتی پلوار نے ’جن سنوائی‘ میں شکایت کی تھی کہ اس کے شوہر شیام پلوار کی موت 22 مئی 2024 کو پردیپ پٹیل کے علاج کی وجہ سے ہوئی، جو کہ ایک مبینہ جعلی ایلوپیتھی ڈاکٹر ہے۔ موت کے وقت شیام پلوار کی عمر 41 سال تھی۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ہوا بنگلہ علاقے میں چلنے والا پٹیل کلینک قواعد و ضوابط کے مطابق رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کے پاس ایلوپیتھک علاج کرنے کے لیے کوئی قانونی ڈگری بھی موجود نہیں تھی۔
سی ایم ایچ او نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر فرضی ڈاکٹر کے خلاف مدھیہ پردیش میڈیکل کونسل ایکٹ 1987 اور مدھیہ پردیش میڈیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن (کنٹرول) ایکٹ 1973 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
محکمہ صحت کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اجے گپتا نے کہا کہ خاتون کی شکایت کے مطابق اس کا شوہر تیز بخار کا علاج کرانے پردیپ پٹیل کے کلینک گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پٹیل ایک میڈیکل اسٹور کے ساتھ یہ کلینک بھی چلا رہا تھا اور اس کے پاس صرف فارمیسی اور الیکٹرو ہومیو پیتھی کی ڈگری ہے۔
یہ معاملہ اندور میں جعلی ڈاکٹروں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو اجاگر کرتا ہے اور محکمہ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ علاج ہمیشہ رجسٹرڈ اور مستند ڈاکٹروں سے ہی کرائیں۔



