
چترکوٹ،31جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جمعہ کی شام چترکوٹ ضلع کے بہل پوروا پولیس اسٹیشن میں عدالت کے حکم پر اس وقت کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) انکت متل سمیت 13 پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) شیلیندر کمار رائے نے ہفتہ کو کہا کہ خصوصی جج (ڈکیتی) عدالت کے حکم پر اس وقت کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) انکت متل، ایس ٹی ایف کے سب انسپکٹر امیت کمار، سنتوش کمار سنگھ، چیف کانسٹیبل کے خلاف کیس درج ہوا۔جمعہ کی شام بہل پوروا پولس اسٹیشن میں اوماشنکر، کانسٹیبل بھوپیندر سنگھ، شیوانند شکلا، سوات انچارج شراون کمار، سب انسپکٹر انیل ساہو، رئیس خان، دھرمیندر کمار، راہل یادو، سب انسپکٹر دین دیال سنگھ، کانسٹیبل رام کیش کشواہا اور مزید 4 نامعلوم افراد کے خلاف قتل اور دیگر کئی الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت نے یہ حکم بہل پوروا تھانہ علاقہ کے پڈونیا گاؤں کی رہنے والی خاتون نتھونیا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیا ہے۔ اے ایس پی کے مطابق خاتون کا شوہر بھل چندر 31 مارچ 2021 کو پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ خاتون نے اس انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
متاثرہ خاتون نتھونیا کے وکیل راجندر یادو نے بتایا کہ اس کا شوہر بھل چندر 31 مارچ 2021 کو ستنا (مدھیہ پردیش) سے موٹر سائیکل پر اپنے گھر واپس آرہا تھا کہ راستے میں تمام پولیس والوں نے اسے پکڑ لیا اور تقریباً سات بجے شام کو جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ایڈوکیٹ یادو نے کہا کہ خصوصی جج (ڈکیتی) ونیت نارائن پانڈے کی عدالت نے جمعرات کو نتھونیا کی درخواست کی سماعت کے بعد فرد جرم داخل کی اور قواعد کے مطابق تحقیقات کا حکم دیا، جس کی تعمیل میں جمعہ کی شام بہل پوروا پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔



