ریلوے اعزاز میں دھوکہ: ریٹائرڈ ملازمین کو چاندی کے بجائے نقلی سکے، ویسٹ سنٹرل ریلوے میں تحقیقات تیز
ریلوے انتظامیہ نے سپلائی حاصل کرنے کے بعد سکوں کے معیار کی جانچ نہیں کروائی؟
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ویسٹ سنٹرل ریلوے کے تحت آنے والے بھوپال ریلوے ڈویژن میں ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ سنگین دھوکہ دہی کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد ریلوے نظام میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے موقع پر اعزاز کے طور پر دیے جانے والے چاندی کے سکے درحقیقت نقلی نکلے، جس نے نہ صرف انتظامیہ پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا بلکہ ملازمین کے اعتماد کو بھی شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
متاثرہ ریٹائرڈ ملازمین کے مطابق جب انہیں دیے گئے سکوں کی اصلیت پر شبہ ہوا تو انہوں نے خود لیاب میں جانچ کروائی۔ جانچ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سکوں میں چاندی کی مقدار نہایت معمولی ہے اور بیشتر حصہ تانبے پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکوں میں صرف 0.23 گرام چاندی پائی گئی، جو دعوے کے برعکس ہے۔
ریلوے ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں برسوں کی خدمت کے بعد اعزاز کے طور پر جو سکے دیے گئے، وہ وقار کی علامت ہونے کے بجائے ایک تلخ تجربہ بن گئے۔ ان کے مطابق ان سکوں کی مارکیٹ قیمت تقریباً دو ہزار روپے بتائی گئی تھی، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔
ذرائع کے مطابق یہ سکے جنوری 2023 میں اندور کی ایک نجی فرم سے خریدے گئے تھے اور بھوپال ڈویژن کو سرٹیفکیٹس کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں فراہم کیے گئے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ٹینڈر کے بعد سکوں کی معیار جانچ کیے بغیر انہیں اسٹور کر دیا گیا اور بعد ازاں ریٹائرڈ ملازمین میں تقسیم کیا گیا۔
اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے ویسٹ سنٹرل ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر ہرشت سریواستو نے کہا کہ پورے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی سطح پر حقائق اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریلوے ویجی لینس ٹیم اس معاملے کی الگ سے جانچ کرے گی کیونکہ اسی فرم کی جانب سے دیگر مقامات پر بھی سکے سپلائی کیے گئے تھے۔
واقعے کے بعد کئی اہم سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ریلوے انتظامیہ نے سپلائی حاصل کرنے کے بعد سکوں کے معیار کی جانچ نہیں کروائی؟ اگر نہیں تو یہ غفلت ہے اور اگر کروائی گئی تو پھر ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
ریلوے میں اعزازات کا مقصد ملازمین کی طویل خدمات کا اعتراف ہوتا ہے، مگر اس واقعے نے اعزاز کے تصور کو ہی مجروح کر دیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ تحقیقات کے بعد ریلوے انتظامیہ کیا قدم اٹھاتی ہے اور کیا متاثرہ ریٹائرڈ ملازمین کو انصاف مل پاتا ہے یا نہیں۔



