باادب بانصیب,ضروری آداب سے بچوں کو واقف کرائیں-حفصہ فاروق بنگلور
بچوں کو تلقین کریں کہ جب بھی کوئی شخص ان کے لیے کوئی بھی کام کرے یا ہدیہ دے تو وہ ان کا شکریہ ادا کریں۔
اس تحریر میں آپ کو ان تمام آداب کی یاد دہانی کروانا چاہیں گے جن سے آپ کے بچوں کو واقف ہونا ضروری ہے۔ بطورِ والدین ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے معاشرے بہتر فرد ثابت ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بچوں کی پرورش اور تربیت کے دوران ان کی شخصیت میں بہتر سے بہتر اخلاقی اقدار پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ممکن ہے کہ آپ آداب و اخلاق کی چند اقدار پر بہت ہی کم دھیان دے رہے ہوں جبکہ چند کو سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنایا ہوا ہو، اس لیے ہم اس تحریر میں ان تمام آداب کی یاد دہانی کروانا چاہیں گے جن سے بچوں کی واقفیت ضروری ہے۔
شکریہ ادا کریں
بچوں کو تلقین کریں کہ جب بھی کوئی شخص ان کے لیے کوئی بھی کام کرے یا ہدیہ دے تو وہ ان کا شکریہ ادا کریں۔توجہ حاصل کرنے کیلئے گستاخی معاف یا ایکس کیوز می کہیں۔ بچوں کو بتائیے کہ جب بھی کسی شخص کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو گستاخی معاف یا انگریزی زبان میں ایکس کیوز می کہیں۔
منفی جذبات کا مظاہرہ سب کے سامنے نہ کریں
جب بچے کسی وجہ سے بے اطمینانی محسوس کر رہے ہوں تو ان احساسات کا اظہار والدین اور دیگر لوگوں سے کرنے میں کوئی برائی نہیں لیکن لوگوں کے سامنے اپنے خراب موڈ کا مظاہرہ کرنا بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔
لوگوں پر تبصرہ نہ کریں
بچوں کو سمجھایا جائے کہ کسی شخص کے وزن، قد اور رنگ کو لے کر مذاق اڑانا یا پھر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنا ناقابلِ قبول عمل ہے۔
سلام یا آداب کہہ کر لوگوں سے ملیں
بچوں کو بتائیے کہ وہ جب بھی کسی شخص سے ملے تو گفتگو شروع کرنے سے پہلے سلام کریں یا آداب یا پھر صبح بخیر کہیں۔
میزبان کا شکریہ ادا کریں
بچوں کو نصیحت کیجیے کہ جب بھی کسی دوست سے ملنے جائے اور اس کے گھر پر وقت گزاریں تو میزبان دوست کے گھر سے آتے وقت اس کے والدین کا میزبانی کرنے پر شکریہ ادا کریں۔
بغیر دستک اندر داخل نہیں ہونا چاہیے
بچوں کو یہ تربیت دیجیے کہ بند دروازہ کھول کر سیدھا کسی کے کمرے میں داخل ہونا اچھی بات نہیں ہوتی۔ درست طریقہ یہ ہے کہ بند دروازہ کھٹکھٹایا جائے اور پھر اندر بیٹھے افراد کے جواب کا انتظار کیا جائے۔
بد زبانی کی کوئی گنجائش نہیں بچوں کو سمجھائیں کہ ہر صورت اپنی زبان پر غیر مہذب الفاظ آنے نہ دیں۔کسی کو ستانا یا دیگر بچوں کے ساتھ مل کر تنگ کرنا بالکل بھی اچھی بات نہیںبچوں کو بتائیے کہ اگر دیگر بچے کسی چیز یا کسی بچے کا مذاق اڑارہے ہوں تو یہ لازمی نہیں کہ آپ بھی ان کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ یہ عمل آداب و اخلاق کے دائرے میں نہیں آتا۔لوگوں کی گفتگو سے لطف اٹھائیں اور ہر وقت یہ کہنا کہ ’میں بور ہو رہا ہوں‘ ٹھیک نہیں، بچوں کو بتائیں کہ کبھی کبھار خاموش رہ کر دیگر لوگوں کی باتیں سننے میں کوئی حرج نہیں اور ضروری نہیں کہ آپ چیخ چیخ کر سب کو بتائیں کہ چونکہ گفتگو کے موضوع سے میرا کوئی تعلق نہیں اس لیے میں بور رہا ہوں۔
آپ کے بعد آنے والے شخص کیلئے دروازہ کھلا رکھیں
بچوں کو تلقین کیجیے کہ گھر ہو یا پھر کوئی اور جگہ ہو، جب بھی آپ دیکھیں کہ آپ کے پیچھے کوئی شخص آرہا ہے تو اس کے لیے دروازہ ہاتھوں سے تھام کر کھلا رکھیں۔ یہ عمل والدین کو لازمی کرنا چاہیے کیونکہ بچے سب سے زیادہ والدین کے عوامل سے ہی سیکھتے ہیں۔



