مشہور نغمہ نگار,سنتوش آنند
مشہور نغمہ نگار جنھوں نے بالی ووڈ میں بہت کم نغمے لکھے مگر فلمی شائقین کے دلوں تک پہنچے!
✍️سلام بن عثمان
Santosh Anand بالی ووڈ کی فلموں کی بات کی جائے اور ان کے نغموں کی بات نا ہو تو فلموں کے ساتھ سرا سر نا انصافی ہوگی۔ 1931 کی پہلی بولتی فلم عالم آراء سے فلموں میں نغموں کا سلسلہ شروع ہوا۔ آج تک کے طویل فلمی سفر میں فلموں کی کامیابی کا سہرہ نغموں کے سر بھی ہے۔ سال در سال فلموں کا مزاج بدلتا رہا، کبھی تاریخی تو کبھی رومانوی تو کبھی حقیقت و نصیحت آمیز فلم کیوں نہ رہیں، فلموں کے مزاج کے ساتھ نغمہ نگاروں نے بھی ہر دور میں اپنے مزاج کو بدلا ۔ شروعاتی دور میں فلموں میں دس سے پندرہ نغمے ہوا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ اتنے زیادہ نغموں کو فلمی شائقین ناپسند کرنے لگے۔ جس کی وجہ سے فلم سازوں نے اپنی فلموں میں نغمے کم کردیے۔ بالی ووڈ میں اپنے وقت کے بے شمار مشہور نغمہ نگاروں نے اپنے قدم جمائے جن میں جاں نثار اختر، مجروح سلطانپوری، حسرت جئے پوری، اندیور، شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی، ورما ملک، سنتوش آنند کے علاوہ اور بھی کئی دیگر نغمہ نگاروں نے بالی ووڈ کو بے شمار زبردست نغموں سے نوازا اور فلموں کو کافی حد تک کامیابی ملی۔
آج ایک ایسے نغمہ نگار کے متعلق فلمی شائقین کو متوجہ کرنا ہے جن سے نئی نسل تو واقف نہیں ہے مگر ماضی کے لوگ بھی بھول چکے ہیں۔ جی ہاں ایک ایسے نغمہ نگار جنہوں نے بالی ووڈ میں صرف 109 نغمے لکھے اور صرف دو نغموں کے لیے انہیں فلم فئیر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ مشہور نغمہ نگار سنتوش آنند ہیں۔ سنتوش آنند کا شمار ہندی کے استاد شعراء میں ہوتا ہے۔ منوج کمار سنتوش آنند سے بہت متاثر ہوئے۔ایک روز مشاعرے میں منوج کمار نے ان شاعری سنی اور ان سے ملنے کے لیے کہا، مگر کچھ مصروفیت کی وجہ سے سنتوش آنند بھول گیے۔ انہوں نے سنتوش آنند کو اپنی آنے والی فلم "شور” کے لیے نغمہ لکھنے کہا۔ اس سے پہلے منوج کمار اپنی فلم میں ورما ملک سے نغمہ لکھایا کرتے تھے۔ فلم "شور” کے نغمہ سے سنتوش آنند نے بالی ووڈ میں اپنی شناخت بنائی۔
5 مارچ 1929 کو سنتوش آنند یوپی کے سکندرآباد کے غازی آباد سے جی ٹی روڈ سے 30 کلومیٹر کی دوری پر بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے گھر کا ماحول ادبی ہونے کی وجہ سے سنتوش آنند بھی ادب سے بہت نزدیک ہوگئے۔ جس کی وجہ سے شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ انھوں نے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس میں ڈگری حاصل کی۔ دلی میں مقیم ہوئے اور وہیں پر ایک لائبریرین کے عہدے پر فائز ہوگیے۔ مگر انہوں نے ادب و شاعری کو مضبوطی سے پکڑے رکھا۔ شاعری میں انہوں نے بہت اونچا مقام حاصل کیا تھا، جس کی وجہ سے ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت نہرو انہیں ہر سال 15 اگست اور 26 جنوری میں لال قلعہ کے پرچم کشائی میں مدعو کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بعد میں اٹل بہاری واجپائی بھی انھیں بلایا کرتے تھے۔ وہ انہیں شاعر جی کہہ کر مخاث کرتے تھے۔
پرچم کشائی کے بعد شعری نشست رکھی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1970 میں منوج کمار کی فلم "پورب اور پچھم” سے کیا۔ فلم کا نغمہ بہت مقبول ہوا۔ ” پروا سہانی آئی رے۔۔۔۔پروا۔۔۔خوشیوں کی رانی آئی رے پروا۔۔۔۔۔” اس فلم کے بعد انہوں نے دس سال میں صرف تین نغمے ہی لکھے۔ جس کی خاص اور اہم وجہ ایک یہ بھی ہے کہ وہ دلی میں اپنی فیملی کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے۔ اس فلم "شور”کی موسیقی کلیان جی آنند جی نے ترتیب دی تھی۔ انہوں نے 1972 کی فلم "شور” میں اپنا پسندیدہ گانا "ایک پیار کا نغمہ ہے….” لکھا۔ اسے لکشمی کانت پیارے لال نے بہترین موسیقی سے نوازا، جسے مکیش اور لتا منگیشکر نے اپنی میٹھی اور دلکش آواز دی۔
اس کے بعد لکشمی کانت پیارے لال سے ایک ایسا ربط بنا کہ آئندہ کی تمام فلموں میں لکشمی کانت پیارے لال نے ہی ان کے نغموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ایک مرتبہ تو سنتوش آنند نے لکشمی کانت-پیارے لال سے فون پر بات کرتے ہوئے نغمہ لکھ دیا۔ انہوں نے 1974 میں منوج کمار کی فلم "روٹی کپڑا اور مکان” کے لیے بھی بہترین نغمے لکھے۔ جس کی موسیقی بھی لکشمی کانت پیارے لال نے دی تھی۔ اس فلم کا نغمہ بہت مقبول ہوا "اور نہیں بس اور نہیں۔۔۔۔” جسے مہندر کپور نے گایا تھا، اسی فلم کا ایک اور نغمہ "میں نا بھولوں گا۔۔۔ ان رسموں کو ان قسموں کو۔۔۔۔۔”، جسے مکیش اور لتا منگیشکر نے گایا تھا۔ اس فلم کے لیے سنتوش آنند کو بہترین نغمہ نگار کا پہلا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
انہوں نے 1981 میں فلم کرانتی کے گانے لکھے، فلم "کرانتی” اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی۔ اسی سال، انہوں نے فلم "پیاسا ساون” میں "تیرا ساتھ ہے تو مجھے کیا کمی ہے۔۔۔۔” اور "میگھا رے میگھا رے مت پردیس جا رے۔۔۔۔۔” جیسے گانے لکھے۔ 1982 میں، انہوں نے فلم "پریم روگ” میں لکشمی کانت پیارے لال کی موسیقی کے تحت ایک نغمہ لکھا جو بہت مقبول ہوا "محبت ہے کیا چیز۔۔۔” اس گانے کے لیے انھیں بہترین نغمہ نگار کا دوسرا اور آخری فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے 26 فلموں میں کل 109 نغمے لکھے۔
سنتوش آنند نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1970 سے کیا ان کے نغموں کے ساتھ لکشمی کانت پیارے لال نے ان کے نغموں کو عزت بخشی۔ ان نغموں کے لیے میوزک ریکارڈ ایل پی کا پورا پورا تعاون رہا جس کی وجہ سے نغموں کو مقبولیت ملی۔
سنتوش آنند کے کچھ مشہور نغمے۔ "ایک پیار کا نغمہ ہے”، "میں نہ بھولوں گا”، "یہ گلیاں یہ چوبارا”، "تیرا ساتھ ہے تو”، "میگھا رے میگھا رے” ان تمام نغموں کی گلوکارہ لتا منگیشکر تھیں۔ انہوں اپنی میٹھی اور دلکش آواز سے مقبولیت بخشی۔ انورادھا پوڈوال نے بھی ان کے لیے فلم جنون 1992، اور تہلکہ 1992، جیسی فلموں کے لیے اپنی بہترین آواز دی۔ مرد گلوکاروں میں مکیش، مہندر کپور اور محمد عزیز نے ان کے لکھے ہوئے نغموں کو اپنی آواز دی۔
ان کی کچھ مشہور فلمیں۔
پورب پچھم، شور، روٹی کپڑا اور مکان،کرانتی، پیاسا ساون، اور پریم روگ، لو 86، جنون، تہلکہ، ترنگا، پریم اگن، بڑے گھر کی بیٹی، مظلوم، میرا جواب سر فہرست ہے۔ 1990 کے اختتام ہوتے ہوتے انہوں نے صرف 109 نغمے لکھے۔ مگر فلمی شائقین کے دلوں پر نقش کر گیے۔ آج سنتوش آنند 93 سال کے ہونے پر بھی شاعری سے ویسا ہی لگاؤ ہے جیسا اپنے عروج کے وقت تھا۔




