بالی ووڈ میں ایک انوکھی آواز کی ملکہ مشہور گلوکارہ اور موسیقی کار شاردا✍️سلام بن عثمان
جی ہاں وہ مشہور گلوکارہ شاردا ہے۔1965 میں فلم سورج سے اپنا فلمی سفر شروع کیا اور اس فلم کے نغموں نے انھیں شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا۔گانے کے بول تھے ""Titli Udi" تتلی اڑی اڑ جو چلی پھول نے کہا آجا میرے پاس۔۔۔۔۔۔"53 سال پہلے شاردا نے یہ نغمہ گایا آج بھی اتنا ہی مشہور ہے جتنا پہلے تھا۔
شو مین راجکپور کی دریافت،بالی ووڈ میں ایک انوکھی آواز کی ملکہ شاردا
بالی ووڈ کے اس بدلتے دور میں کوئی نہ کوئی ایسے اداکاراؤں یا گلوکاروں نے بالی ووڈ میں قدم رکھا اور راتوں رات اس کی تقدیر کا ستارہ چمکا اور کامیابی کی طرف گامزن دکھائی دیا،ان میں سے کچھ ایسے ہیں جسے بالی ووڈ کے علاؤہ فلمی شائقین انھیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔اسی بدلتے دور میں ایک گلوکارہ ایسی آئی اس نے اپنی انوکھی آواز کے ذریعے اپنی شناخت بنائی اور خوب شہرت حاصل کی۔ یہاں تک کہ اس کے پہلے ہی گانے کو فلم فئیرایوارڈ کی فہرست میں شامل کیا گیا اور بہترین گلوکارہ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔
جی ہاں وہ مشہور گلوکارہ شاردا ہے۔1965 میں فلم سورج سے اپنا فلمی سفر شروع کیا اور اس فلم کے نغموں نے انھیں شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا۔گانے کے بول تھے "”Titli Udi” تتلی اڑی اڑ جو چلی پھول نے کہا آجا میرے پاس۔۔۔۔۔۔”53 سال پہلے شاردا نے یہ نغمہ گایا آج بھی اتنا ہی مشہور ہے جتنا پہلے تھا۔
25 اکتوبر 1937 کو تامل ناڈو میں ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوئیں۔شاردا نے اپنی تعلیم بھی تامل ناڈو میں مکمل کی اور بی اے گول میڈلسٹ رہی۔شاردا کو بچپن سے ہی گانے کا شوق تھا۔اس زمانے میں ریڈیو کا دور تھا مگر شاردا کے گھر ریڈیو نہیں تھا۔جب کبھی وہ والدین کے ساتھ باہر گھومنے جایا کرتی اس وقت ریڈیو کے گانے ان کے کانوں تک پہنچتے یا پھر کسی کے یہاں ریڈیو پر گانے سننے کا موقع ملتا تو ان گانوں کو یاد رکھتی اور گھر آ کر اسے گنگنایا کرتی تھی۔ والدہ نے جب شاردا کی دلچسپی موسیقی میں دیکھی تو شاردا کا ساتھ دیا اور کرناٹک موسیقی کی تربیت کے لئے اسکول میں داخل کیا۔
شاردا نے اسکول سے تربیت حاصل کرنے کے بعد شاردا کو بڑے بڑے تقریب میں بطور گلوکارہ بلایا جانے لگا۔وہاں شاردا فلموں کے نغمے گایا کرتی تھی۔یہ سلسلہ بہت زور و شور سے جاری تھا۔اسی درمیان شاردا اپنے والدین کے تہران گئی ہوئی تھی۔ تہران کے ایک بڑے شو میں شاردا کو بطور گلوکارہ مدعو کیا گیا۔اس تقریب میں ہندوستان کے شو مین راجکپور بھی موجود تھے۔شاردا نے اس تقریب میں کچھ گانے کو اپنی بہترین آواز میں گایا جسے سن کر راجکپور شاردا کی ایک انوکھی آواز سے بہت متاثر ہوئے۔
شاردا نے اس تقریب میں فلم برسات کا بھی ایک نغمہ سنایا "او او او مجھے کسی سے پیار ہو گیا……..” پھر کیا تھا راجکپور نے شاردا سے ملاقات کی اور انھیں ممبئی آنے کو کہا۔انھوں نے اپنے آرکےاسٹوڈیو میں آواز ٹیسٹ کرنے کو کہا اور اپنی فلم میں بطور گلوکارہ کی پیشکش بھی رکھی۔شاردا تہران سے جب ممبئی پہنچی تو پہلی فرصت میں وہ آرکے اسٹوڈیو گئی راجکپور صاحب سے ملی۔ شاردا کو آواز ٹیسٹ کرنے کے لئے نغمہ دیا گیا اور اس میں وہ کھری اتری۔راجکپور کی فیملی نے شاردا کی آواز کو بہت پسند کیا۔اس کے بعد راجکپور نے شاردا کو اس وقت کے مشہور موسیقار شنکر جئے کشن کے پاس جانے کے لئے کہا۔
وہاں شاردا نے بالی ووڈ طرزانداز پر تربیت حاصل کی۔راجکپور اس وقت بہت مصروف ہونے کی وجہ سے شاردا کو اپنی فلم میں موقع نہیں دے سکے مگر اس درمیان ایک فلم پر کام شروع چکا تھا اور وہ فلم تھی "سورج” شاردا نے اس فلم سے اپنا فلمی سفر بطور گلوکارہ شروعات کی۔ شاردا نے پہلا نغمہ گایا "تتلی اڑی اڑ جو چلی۔۔۔۔۔”دوسرا نغمہ دیکھو میرا دل مچل گیا۔۔۔۔” یہ نغمے بہت مشہور ہوئے۔اس وقت فلم فیئر ایوارڈ کی فہرست میں شاردا کا نام شامل ہوگیا۔اس زمانے میں فلم فئیر ایوارڈ صرف ایک گلوکار کو دیا جاتا تھا۔چاہے وہ گلوکار ہو یا گلوکارہ ہو۔
اتفاق ایسا ہوا کی رفیع صاحب کا نغمہ بھی بہت مشہور ہوا تھا "بہاروں پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے۔۔۔۔۔۔” اور شاردا کا بھی گایا ہوا نغمہ تتلی اڑی اڑ جو چلی۔۔۔لوگوں نے بہت پسند کیا تھا اور فلم فئیر ایوارڈ میں دونوں نغموں کے گلوکار کو برابر کے ووٹ ملے تھے۔فلم فئیر بھی کشمکش میں پڑ گئی کیا کیا جائے۔ ایک طرف مشہور گلوکار رفیع صاحب تھے تو دوسری طرف بلکل نئی گلوکارہ شاردا تھی۔اس وقت فلم فئیر میں ایک تاریخ مرتب ہوئی۔جس کی وجہ سے یہ اعلان ہوا کی آئندہ سے دو الگ الگ ایوارڈ رکھا جائے گا ایک بہترین گلوکار اور دوسرا بہترین گلوکارہ۔شاردا کو فلم فئیر کا بہترین گلوکارہ اسپیشل ایوارڈ سے نوازا گیا۔
1968-71 تک شاردا کا نام فلم فئیر ایوارڈ میں بہترین گلوکارہ کی فہرست میں شمار کیا گیا۔بالی ووڈ کا یہ وہ دور تھا جب لتا منگیشکر،آشا بھونسلے اور سمن کلیان پور کی طوطی بولتی تھی۔اس وقت شاردا نے دو مرتبہ فلم فئیر ایوارڈ حاصل کیا۔
اس وقت شاردا ہمیشہ تنازعہ کا شکار رہیں۔ان کے گانے کو جبراً فلموں سے ہٹایا گیا۔ جب کہ شو مین راجکپور نے ہی شاردا کو بالی میں متعارف کرایا تھا ان پر بھی دباؤ ڈالا گیا اور ان کی فلم "میرا نام جوکر” سے تین گانے نکالے گئے جسے شاردا نے گایا تھا۔ اس کے بعد فلم "کل آج اور کل” سے بھی ایک گانا ہٹایا گیا۔دوسری طرف مشہور موسیقار شنکر کے متعلق اخباروں کی سرخیاں تھی شنکر شاردا کی محبت میں گرفتا ہوگئے۔اسی درمیان یہ بات بھی گشت کر رہی تھی کہ "پیار اندھا ہوتا ہے سنا تھا مگر یہ پہلی بار سن رہے ہیں کہ پیار بہرا بھی ہوتا ہے”
شاردا اور رفیع صاحب کے ساتھ بھی کئی نغمے رہے جن مشہور رہا فلم گمنام "جانے چمن شعلہ بدن بانہوں میں آجاؤ۔۔۔۔” شاردا تنازعہ میں گھرے رہنے کے باوجود بالی ووڈ اور فلمی شائقین کو اپنی انوکھی آواز سے لطف اندوز کرتی رہی اور اپنے مداحوں کے درمیان بھی رہی۔ شاردا نے اپنے وقت کے کئی اداکاراؤں کو اپنی آواز دی جن میں وجینتی مالا،سائرہ بانو،ہیمامالنی،شرمیلا ٹیگور، اور بدلتے دور میں ممتاز اور ریکھا کے علاؤہ کئی ہیروئین کو اپنی آواز دی۔اس کے ساتھ بڑے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا جن میں شنکر جئے کشن،روی،اوشا کھنہ،اقبال قریشی،دتتا رام کے علاؤہ اور بھی کئی دیگر کے ساتھ۔
شاردا نے بالی ووڈ کے علاؤہ کئی ریاستی زبانوں میں بھی گانا گایا جن میں تیلگو،مراٹھی،انگریزی اور گجراتی فلمیں رہیں۔فلم گرم خون کا ایک نغمہ جسے شاردا نے لکھا اور اسے لتا منگیشکر نے گایا اور سلکھشنا پنڈت پر فلمایا گیا۔”چہرہ جو دل کے قریب شاردا آج 83 برس کی ہوگئی ہیں۔ اس وقت شاردا بچوں کو موسیقی اور گلوکاری سیکھا رہی ہے۔ شاردا نے اپنے وقت میں کئی اسٹیج شوز بھی کئے جن میں فلم فئیر ایوارڈ،چیریٹی شوز کے علاؤہ بیرونی ممالک میں بھی شوز کرتی رہیں۔
21 جولائی 2000 کو مرزا غالب پر البم بنایا "انداز بیاں اور” اس کا اجراء ممبئی میں شبانہ اعظمی ،خیام، کے علاؤہ ممبئی کے کئی شاعر اور بالی ووڈ کی معزز شخصیات موجود تھے۔
شاردا کے کچھ مشہور گانے:
تتلی اڑی "Titli udi” ۔۔۔،دیکھو میرا دل مچل گیا "Dekho mera dil machal gaya"۔۔۔۔۔،بات ذرا ہے آپس کی Baat Zara Hai Aapas Ki ۔۔۔۔۔۔،جانے چمن شعلہ بدن "Jaan e Chaman Shola badan” ۔۔۔۔۔۔،بکممہ بکممہ ایکڑ پتورا ایکڑ پتورا "Bakkamma-2 Bakkamma-2 Ekkada Potao Ra”۔۔۔۔۔،چلے جانا ذرا ٹہرو کسی کا دم نکلتا ہے "Chale jana zara thhahro” ۔۔۔۔۔”دنیا کی سیر کرلو Duniya ki sair kar lo ۔۔۔۔۔”وہ پری کہاں سے لاؤں Woh Pari kahan se laun ۔۔۔۔۔” اور "جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے Jab bhi yeh dil udaas hota hai۔۔۔۔۔۔۔۔”
بالی ووڈ کی انوکھی آواز کی ملکہ شاردا جس نے اپنے وقت کی ان مشہور گلوکاروں کے درمیان رہ کر ان سے سخت مقابلہ کیا اور فلم فئیر کا بہترین گلوکارہ کا ایوارڈ بھی حاصل کیا،فلمی شائقین شاردا کی آواز کو کئی دہائیوں تک یاد رکھیں گی۔




