سلام بن عثمان،کرلاممبئی 70
ہندوستانی فلموں میں موسیقی کے ساتھ گلوکاراوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ بالی ووڈ میں بے شمار گلوکاراوں نے اپنی آواز سے فلموں کو شناخت دلائی اور فلم کی کامیابی میں برابر کی حصہ داری ادا کی۔ ان میں کئی تو مشابہت والی آواز سے کچھ عرصہ تک بالی ووڈ میں نظر آئے۔ کئی گلوکاروں نے اپنی انوکھی آواز کے ساتھ فلموں میں قدم رکھا۔ جن میں گلوکارہ کے علاوہ گلوکار نے بھی اپنے جلوے بکھیرے۔ کوئی لتا منگیشکر کو ٹکر دینے آیا تو کوئی محمد رفیع صاحب کے سامنے بالی ووڈ میں قدم جمانے کی کوشش کی۔
مگر وہ کچھ عرصہ بھی نہیں ٹک سکے۔ کئ ایک ایسے بھی گلوکار آئے جنہوں نے ہندی زبان کے ساتھ ساتھ ہر علاقائی زبانوں میں بھی گلوکاری کرتے ہوئے ایک الگ شناخت بنائی اور مشہور ہوئے۔ جی ہاں آج ہم ایک ایسے ہی گلوکار کے متعلق بتانے جا رہے ہیں، انھوں نے کبھی کسی کی آواز سے مشابہت نہیں کی۔ اپنی انوکھی دلکش آواز کے ساتھ گلوکاری کی اور بالی ووڈ میں مشہور ہوئے۔ جی ہاں وہ مشہور گلوکار کٹاسری جوزف یسوڈاس جنھیں ہم "یسوداس” سے جانتے ہیں۔
10 جنوری 1940 کو یسوداس کیرالا کے کوچی میں ایک لاطینی کیتھولک عیسائی خاندان میں آگسٹین جوزف اور ایلزبتھ جوزف کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک معروف ملیالم کلاسیکی موسیقار اور اسٹیج اداکار تھے۔ یسوداس پانچ بچوں میں سب سے بڑے تھے، اور ان کے بعد تین چھوٹے بھائی تھے – انٹونی (انٹاپن)، مانی، جسٹن اور ایک چھوٹی بہن، جیاما۔ آگسٹین جوزف کے سب سے پیارے دوست موسیقار کنجن ویلو بھگواتھر ان کے پہلے استاد تھے۔ کنجن ویلو نداشورا چکرورتی ٹی این راجہ رتنم پلئی کے شاگرد تھے۔
یسوداس نے اپنی تعلیمی موسیقی کی تربیت R.L.V. میوزک اکیڈمی، تھریپونیتھورا میں شروع کی اور گنبوشنم کورس مکمل کیا۔ بعد میں انھوں نے کارناٹک موسیقی کے استاد کے آر کمارسوامی آئیر اور سیمنگوڈی سری نواسا آئیر کی سرپرستی میں سواتھی تھرونل کالج آف میوزک ترواننت پورم میں تعلیم حاصل کی لیکن مالی مجبوریوں کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکے۔ ایک مختصر مدت کے بعد یسوداس نے ویچور ہری ہرا سبرامنیا آئیر کے ماتحت موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی، جس کے بعد انھوں نے چیمبائی ویدیا ناتھ بھگاوتار سے جدید تربیت لی۔
یسوداس نے اپنا پہلا مقبول گانا Jaathi Bhedam Matha Dwesham (موسیقی: M. B. Sreenivasan) 14 نومبر 1961 کو ریکارڈ کیا تھا۔ گلوکار نے ان چار سطروں کے ساتھ فلموں میں اپنے کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے گایا تھا۔ اس گانے کو یسوداس ایک بہت بڑی نعمت مانتے ہیں، کیونکہ انھیں کسی اور نے نہیں بلکہ اس گانے کو ان کے استاد نے لکھا تھا۔ نارائن گرو، کیرالا کے سب سے قابل احترام سنت-شاعر-سماجی مصلح میں سے ہیں یہ 1962 فلم کلپدوکل تھی، جو سری نارائن گرو کی زندگی اس دور میں سماجی اصلاحات پر مبنی تھی۔ انہوں نے اس فلم کے لیے شاعر کمارن آسن کی سطریں گائیں۔
ابتدائی سالوں کے بعد وہ اس وقت کے قائم کردہ میوزک ڈائریکٹرز ایم بی سری نواسن، جی دیوراجن، وی دکشینامورتی، بی آر لکشمنن، ایم ایس بابوراج اور بہت سے دوسرے لوگوں کی طرف سے سب سے زیادہ چاہنے والے بن گئے۔ اس طرح پلے بیک سنگنگ میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اپنے شروعاتی وقت میں ہی یسوداس نے ملیالم، تامل، تیلگو اور کنڑ فلموں میں بھی گانے گائے۔ 1970 میں انہیں کیرالا سنگیت ناٹک اکیڈمی میں انھیں سربراہ کی حیثیت سے نامزد کیا گیا تھا اور وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے اس وقت کے سب سے کم عمر شخص تھے۔
یسوداس نے 1970 کی دہائی میں
جنوبی ہندوستانی فلموں میں گانے کے ایک دہائی کے بعد یسوداس کو 1970 کی دہائی کے اوائل میں بالی ووڈ میں موقع ملا۔ انہوں نے 1971 میں پہلا ہندی گانا گایا وہ فلم "جے جوان جئے کسان” لیکن پہلی ریلیز ہونے والی فلم "چھوٹی سی بات” تھی۔ "جانے مان جانے من تیرے دو نین” سے اپنی شناخت بالی ووڈ میں بنائی اور مقبول ہوئے۔ انہوں نے ہندی سنیما کے کئی معروف اداکاروں کے لیے ہندی گانے گائے ہیں، جن میں امیتابھ بچن، امول پالیکر، جیتندر، نصیرالدین شاہ کے علاوہ اور بھی کئی شامل ہیں۔ انہوں نے موسیقی کے ہدایت کاروں کے لیے بہت سے سدا بہار ہندی فلمی گانے گائے ہیں جن میں رویندر جین، بپی لہری، خیام اور سلیل چودھری شامل ہیں۔یسوداس کی سب سے مشہور فلم 1976 کی "چتچور” ہے، جس کی موسیقی رویندر جین نے دی تھی۔
14 نومبر 1999 کو، یسوداس کو پیرس میں "موسیقی برائے امن” تقریب میں "موسیقی اور امن میں شاندار کامیابیوں” کے لیے یونیسکو کی طرف سے اعزازی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس تقریب میں کئی فنکار بھی شامل تھے۔ جیسا کہ لیونل رچی، رے چارلس، مونٹسیرات کابیلے، اور زوبن مہتا۔ 2001 میں انہوں نے البم اہنسا کے لیے سنسکرت، لاطینی اور انگریزی میں گانا گایا اور نئے دور اور کرناٹک سمیت اسلوب کے مرکب میں مشرق وسطیٰ میں اپنے میوزک کنسرٹس میں انھوں نے عربی گانے کو کرناٹک انداز میں گایا۔
یسوداس اکثر بیرون ملک اپنی پرفارمنس کے ذریعے ہندوستان کے ثقافتی سفیر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے ہندوستانی موسیقی کو فروغ دینے کا کام کیا۔ 2009 میں یسوداس نے ترواننت پورم میں دہشت گردی کے خلاف ایک کراس کنٹری میوزیکل مہم شروع کی تھی جس کا نعرہ تھا "میوزک فار پیس” ہیمنت کرکرے کی اہلیہ کویتا کرکرے نے ‘شانتی سنگیت یاترا’ کے آغاز کے موقع پر یسوداس کو مشعل سونپی تھی۔
یسوداس نے یکم فروری 1970 کو پربھا سے شادی کی۔ ان کے تین بیٹے ہیں۔ ونود، وجے، اور وشال۔ ان کا دوسرا بیٹا وجے یسوداس ایک موسیقار ہے جس نے 2007، 2012 اور 2018 میں بہترین پلے بیک سنگر کا کیرالا اسٹیٹ فلم ایوارڈ جیتا۔
رام ناتھ کووند نے یسوداس کو رجت کمل ایوارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ
"سری نارائن گرو کے پیغام، "ایک مذہب اور تمام انسانیت کے لیے ایک خدا”، ہے۔ نوجوان یسوداس کو اپنے ساتھی مردوں کے ساتھ برتاؤ میں متاثر کیا”۔ گلوکاروں میں یسوداس کے اپنے ہیرو تھے کیونکہ یسوداس ان سے بہت متاثر تھے، جن میں محمد رفیع صاحب، چیمبائی ویدیا ناتھ بھگاوتار اور بالمورلی کرشنا شامل ہیں۔ یسوداس ان تمام کی بہت عزت اور سب سے زیادہ تعریف کرتے ہیں۔ یسوداس نے اپنے یوم پیدائش پر کولور موکامبیکا مندر، کولور، کرناٹک میں علم، موسیقی اور فنون کی دیوی سرسوتی دیوی کے کیرتن گاتے ہوئے سال 2000 میں انھوں نے موسیقی میلے کا انعقاد ان کی 60ویں سالگرہ پر شروع کیا تھا۔
یہ 9 روزہ میوزک فیسٹیول ہر سال جنوری میں کولور موکامبیکا مندر میں شروع ہوتا ہے۔ اتوار 10 جنوری 2010 کو انھوں نے کولور سری موکامبیکا مندر میں اپنی 70 ویں سالگرہ منعقد کی تھی۔ انھوں نے’سنگیت رچنا’ (کلاسیکی عقیدت کے گانوں) کے ساتھ، دیوی موکامبیکا کے سامنے 70 گلوکاروں کے ساتھ منائی تھی۔ آل انڈیا ریڈیو نے خصوصی سنگیت رچنا کو پورے کیرالا میں نشر کیا۔ یسوداس کے پاس "لارڈ آیپپا” کے لیے کئی بھجن کرتن کے وقت اپنی آواز کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا۔
1980 یسوداس نے ترویندرم میں تھرنگانی اسٹوڈیو قائم کیا۔ 1992 میں دفتر اور اسٹوڈیو کو چنئی، تامل ناڈو منتقل کر دیا اور کمپنی کو 1998 میں امریکہ میں شامل کر لیا گیا۔ تھرنگنی اسٹوڈیو اور تھاننگنی ریکارڈز کیرالا میں ایک ریکارڈنگ سینٹر کے طور پر قائم کیا گیا۔ جس میں پہلی بار ملیالم فلمی گانوں کی آڈیو کیسیٹس نکالیں۔ اسٹیریو میں ریکارڈ کمپنی کا اسٹوڈیو چنئی میں وائس مکسنگ اسٹوڈیو بھی بنایا یہ اسٹوڈیو پوری دنیا میں فلم اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے کنسرٹس کے لیے یسوداس نے بنایا۔
2 اکتوبر 2014 کو یسوداس نے گاندھی جینتی کے موقع پر ایک عوامی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے ایک تنازعہ کھڑا کر دیا، جہاں انہوں نے کہا کہ "خواتین کو ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے۔ آپ کو شائستہ لباس پہننا چاہیے اور مردوں جیسا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے”۔ اس کے نتیجے میں خواتین کے حقوق اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے، ان تنظیموں نے یسوداس سے اپنی بات واپس لینے کو کہا۔
2006 میں سوارالیا کیرالی یسوداس ایوارڈ سے نوازے جانے پر اے آر رحمان نے کہا کہ "میں سوارالیا کے ایوارڈ سے مجھے بہت خوشی ہورہی ہے، اور اپنے سب سے پسندیدہ گلوکار مسٹر یسوداس سے یہ ایوارڈ حاصل کر رہا ہوں۔ وہ میری اب تک کی سب سے پسندیدہ آوازوں میں سے ایک ہے”. ایک اور موقع پر ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے یسواس کے بارے میں کہا کہ "ان کی آواز بے مثال ہے، ان کی آواز خدا کی عطا ہے اور میں 3 سال کی عمر سے ان کے گانے سن رہا ہوں”۔
رویندر جین ایک نابینا میوزک ڈائریکٹر نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "اگر کبھی ان کی بینائی بحال ہوتی ہے تو وہ پہلا شخص جسے وہ دیکھنا چاہیں گے وہ یسوداس ہوگا۔
2003 میں، ارب پتی اور بزنس مین بی آر شیٹی نے انڈین ہائی اسکول، دبئی میں یسوداس کا ایک کنسرٹ سننے کے بعد انہیں اپنا 1992 کا ماڈل رولس رائس سلور اسپرٹ تحفہ میں دیا۔ بی آر شیٹی نے کہا: "مجھے نہ صرف ان کے کنسرٹ نے بلکہ خود اس شخص نے بھی متاثر کیا۔
بپی لہری نے 2012 میں فلم فیئر ایوارڈ کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہا تھا: "‘یسوداس’ کی آواز بھگوان کی طرف سے چھوڑی گئی ہے۔ کشور کمار کے بعد وہ ایک ایسے گلوکار ہے جنہوں نے بالی ووڈ میں مجھے بہت متاثر کیا۔ یسوداس موسیقی کے ساتھ وہ دھنوں کو ایک اور سطح پر لے جاتے ہے۔ اور اس کا نوٹ بہت ہی زبردست ہے۔”
یسوداس نے 50,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے ہیں۔ اور بےشمار ایوارڈز سے نوازے گئے ہیں۔ جن میں مائشٹھیت پدم شری (1975)، پدم بھوشن (2002)، پدم وبھوشن (2017) اور بہترین پلے بیک گلوکار کے آٹھ قومی ایوارڈز شامل ہیں۔حکومت ہند کی طرف سے 8 مرتبہ بہترین مرد پلے بیک سنگر کے نیشنل فلم ایوارڈز سے نوازا گیا۔
کیرالا حکومت کی طرف سے بہترین گلوکار کے لیے کیرالا اسٹیٹ فلم ایوارڈ 25 مرتبہ بہترین پلے بیک گلوکار کا ریکارڈ قائم کیا۔ تمل ناڈو حکومت کی طرف سے بہترین پلے بیک گلوکار کے لیے 5 مرتبہ تمل ناڈو اسٹیٹ فلم ایوارڈزحکومت مغربی بنگال کی طرف سے بہترین مرد پلے بیک سنگر کے لیے مغربی بنگال اسٹیٹ فلم ایوارڈ ملا۔
آندھرا پردیش حکومت کی طرف سے بہترین پلے بیک گلوکار کے لیے 4 مرتبہ آندھرا پردیش اسٹیٹ فلم ایوارڈز۔ کیرالا حکومت کی طرف سے جے سی ڈینیئل ایوارڈانامالائی یونیورسٹی، کیرالا یونیورسٹی اور ایم جی یونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بہترین پلے بیک سنگر کے لیے آنندلوک بہترین مرد پلے بیک ایوارڈ ملا ہے۔ سنگیت کالاسیکھمانی، 2002 میں دی انڈین فائن آرٹس سوسائٹی، چنئی بھارتیہ ودیا بھون، بنگلور کی طرف سے پدم بھوشن بی سروجادیوی نیشنل ایوارڈ سال2015 میں2017 میں حکومت کرناٹک کی طرف سے کرناٹک راجیوتسووا ایوارڈ کرناٹک اسٹیٹ فلم ایوارڈ 1991 میں بہترین پلے بیک سنگر مرد، فلم رامچاری گانا نمورا یووارانی سوارلایا یسوڈاس ایوارڈ موسیقی کے فنکاروں کے لیے ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ایک باوقار ایوارڈ ہے۔
یہ ایوارڈ کیرالہ کے ترویندرم میں واقع موسیقی اور کیرالا چینل کو فروغ دینے والی ایک تنظیم سوارلایا نے مشترکہ طور پر قائم کیا ہے۔ ایوارڈز 2000 سے ہر سال دیئے جاتے ہیں۔ یسوداس ہر جنوری میں گندھاروا سندھیا میں ایوارڈ پیش کرتے ہیں۔یسوداس نے بہترین مرد پلے بیک سنگر کا قومی ایوارڈ آٹھ بار جیتا، پانچ بار فلم فیئر ایوارڈ ساؤتھ، اور تینتالیس بار بہترین پلے بیک سنگر کا ریاستی ایوارڈ، بشمول کیرالا، تمل کی ریاستی حکومتوں کی طرف سے دیے گئے ایوارڈز۔ تامل ناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک اور مغربی بنگال۔
میں ان کی شراکت کے لیے انہیں ملیالم سنیما میں شراکت کے لیے کیرالا حکومت کا سب سے بڑا اعزاز۔ 2011 میں یسوداس کو موسیقی کے شعبے میں ان کی خدمات کے لیے CNN-IBN کے شاندار کارنامے سے نوازا گیا۔ 2006 میں، انہوں نے ایک ہی دن میں اے وی ایم اسٹوڈیو چنئی میں چار جنوبی ہندوستانی زبانوں میں 16 فلمی گانے گائے۔ انہیں وسیع پیمانے پر ہندوستانی موسیقی کی تاریخ کے عظیم ترین گلوکاروں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے اور کیرالا کے ثقافتی آئیکون کے طور پر بھی اعزاز حاصل ہے۔ بالی ووڈ میں ان کے کچھ مشہور گانے۔
٭چاند جیسے مکھڑے پہ۔۔۔۔۔،
٭گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا۔۔۔۔،
٭ او گوریا رے۔۔
٭تیرے آنے سے سج گئی۔۔۔۔۔۔،
٭ سنینا آ ان نظاروں کو ہم دیکھیں۔۔۔۔۔۔،
٭ خوشیاں ہی خوشیاں تھیں دامن میں جس کے۔۔۔۔۔
٭جب دیپ جلے آنا۔۔۔۔۔۔،
٭ جان من جان تیرے دو نین۔۔۔۔۔۔
٭ کہاں سے تو آیا ہے کہاں تجھے جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
٭محبت بڑے کام کی چیز ہے۔۔۔
٭کتابوں میں چھپتے ہیں چاہت کے قصے۔۔۔۔۔۔۔
٭مانا ہو تم بے حد حسیں۔۔۔۔۔۔
٭ آج سے پہلے آج سے زیادہ۔۔۔۔۔۔.



