جرائم و حادثات

فریدآباد میں فحش ویڈیو کالز کے ذریعے بلیک میلنگ کا خطرناک گینگ سرگرم

لوگوں کو فحش مواد کے ذریعے بلیک میل کیا گیا۔

فریدآباد، 10 اکتوبر (اردو دنیا.اِن / ایجنسیاں) – این سی آر خطے میں واقع شہر فریدآباد میں فحش چیٹس اور پورن ویڈیو کالز کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مافیا کے نشانے پر عام افراد کے ساتھ ساتھ طلباء، اساتذہ اور یہاں تک کہ پولیس اہلکار بھی آ رہے ہیں۔

فریدآباد پولیس کے سائبر سیل کے مطابق، انہیں گزشتہ چند دنوں میں 30 سے زائد ایسی شکایات موصول ہو چکی ہیں جن میں لوگوں کو فحش مواد کے ذریعے بلیک میل کیا گیا۔ یہ گینگ عموماً لڑکیوں کو استعمال کرتا ہے جو پہلے پیار کا بہانہ کر کے ویڈیو کال کرتی ہیں، اور پھر فحش گفتگو اور ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو جال میں پھنسا کر پیسے وصول کرتی ہیں۔

حال ہی میں این آئی ٹی -3 کے ایک طالب علم کو ایک نامعلوم نمبر سے پورن ویڈیو کال موصول ہوئی، اور اس کے بعد اسے خود کی ایک ویڈیو بھیج کر دو لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ طالب علم کے والد نے سائبر سیل کو شکایت دی۔

اسی گینگ نے اولڈ فریدآباد کے ایک اسکول ٹیچر کو بھی نشانہ بنایا، جس سے فحش ویڈیوز کے عوض کئی مرتبہ 5000 روپے وصول کیے گئے۔ جب مطالبات کا سلسلہ رکا نہیں، تو متاثرہ ٹیچر نے بھی سائبر پولیس میں رپورٹ درج کرائی۔

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ فریدآباد کے ایک تھانے کا اے ایس آئی بھی اس جال میں پھنس گیا۔ لڑکی نے پہلے دوستی کی، پھر فحش ویڈیو ریکارڈ کرکے بلیک میل کیا، اور 10 ہزار روپے تک وصول کیے۔ جب مطالبہ بڑھتا گیا تو پولیس اہلکار نے بھی بالآخر سائبر سیل سے مدد لی۔

یہ گینگ عام طور پر ایک ’مس کال‘ کے ذریعے لوگوں کو لبھاتا ہے۔ اگر کال ریسیو نہ ہو تو واٹس ایپ یا فیس بک کے ذریعے چیٹنگ کا آغاز کیا جاتا ہے۔ بات چیت آگے بڑھنے پر ویڈیو کال اور فحش چیٹس کے ذریعے بلیک میلنگ شروع ہوتی ہے۔

فریدآباد سائبر پولیس اسٹیشن کے انچارج بسنت کمار نے بتایا کہ ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ گینگ میوات اور دہلی سے چلایا جا رہا ہے، اور یہ لوگ زیادہ تر فیک آئی ڈیز کا استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button