فرید آباد: طالبہ کے قتل کا ملزم سیریل کلر نکلا ، ماضی میں3 لڑکیوں کو قتل کرچکا ہے
فرید آباد ، 11،جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)فریدآباد میں طالبہ کے اغوا اور قتل کیس میں ریمانڈ پر موجود سکیورٹی گارڈ سیریل کلر نکلا۔ کرائم برانچ ڈی ایل ایف کے سامنے اس نے پوچھ تاچھ کے دوران سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے تین نوعمروں سمیت چار لڑکیوں کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔
قتل کرنے سے قبل وہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا تھا، جب وہ احتجاج کرتی تھیں یا شور مچاتی تھیں تو لڑکیوں کا گلا دبا کر قتل کردیاکرتا تھا۔ ڈی سی پی کرائم نریندر کادیان نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کرائم برانچ ڈی ایل ایف نے 22 سالہ طالبہ کے قتل میں ملزم سنگھ راج کو گرفتار کیا ہے۔ جہاں ریمانڈ کے دوران اس نے دوران تفتیش ایک کے بعد ایک کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے۔
سنگھ ھراج سے پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہ سیریل کلر ہے،اس سے پہلے بھی وہ تین نابالغ لڑکیوں کو قتل کرچکا ہے۔ 31 دسمبر کو ملزم اپنے ہی دوست کی 22 سالہ بیٹی کو سیکٹر 17 کینال پل کے قریب لے گیا ،جہاں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر ملزمان نے پہلے کی طرح اس کا گلا دبا کر قتل کر دیا اورلاش نہر میں پھینک دی، تاہم نہر کے کنارے جھاڑیوں میں پھنس جانے کی وجہ سے نعش بہہ نہ سکی۔
پولیس کے مطابق ملزم سنگھ راج پر سال 1986 میں اپنے چچا اور اس کے بیٹے کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ اس واقعے کے لیے اسے گرفتار بھی کیا تھا۔ لیکن عدم ثبوت کی بنا پر عدالت سے رہا کر دیا گیا۔ تب سے وہ چوکیدار کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ملزم سنگھ راج سیکٹر 16 سٹی ہسپتال میں چوکیدار تھا۔
اغوا ہونے والی لڑکیوں میں سے ایک 14 سالہ لڑکی تھی، جو کبھی کبھار اپنے بھائی کے پاس جاتی تھی ،جو شہر کے بازار میں چائے اسٹال لگاتا تھا۔ جہاں اس سیریل کلر کی نظر اس پر پڑی۔ 5 دسمبر 2019 کو شام 7.30 بجے کے بعد وہ اچانک غائب ہو گئی، آج تک اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
ملزمان کا روزانہ اس گلی میں آنا جانا تھا، تاکہ کسی کو اس کی حرکت پر شک نہ ہو، وہ لڑکی کے بھائی کو نصیحت بھی کرتا تھا کہ اپنی بہن کو اس طرح اکیلا نہ بھیجا کرے ، جس کی وجہ سے اس سیریل کلر پر اعتماد پیدا ہوگیا تھا، لیکن گرفتاری کے بعد اس سیریل کلر کی حقیقت آشکارا ہوگئی ۔



