
بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات
’ اس نفرت بھری دنیا میں اب جی نہیں سکتا ٗ، دسویں کے طالب علم کادلدوز سوسائڈ نوٹ
اسکول میں ہراساں کئے جانے پرفرید آباد کے طالب علم نے خودکشی کی: پولیس
فرید آباد،26فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) گریٹر فرید آباد میں شب دسویں جماعت کے ایک طالب علم نے ڈسکوری سوسائٹی کی 15ویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔لیکن اس خودکشی سے قبل مقتول طالب علم نے ایک سوسائڈ نوٹ بھی چھوڑا ہے۔
جس میں اس نے اسکول انتظامیہ پر اسے ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے اور اس کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ پولیس نے خودکشی نوٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔
فرید آباد پولیس کے پی آر او سبے سنگھ نے بتایا کہ 24 فروری کو 10ویں جماعت کے ایک طالب علم نے 15 منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی ،اور ایک سوسائڈنوٹ بھی چھوڑا ہے ، جس میں مقتول طالب علم اپنی خودکشی کے ذمہ داروں کے نام کا افشا کیا ہے۔
مقتول کی والدہ کی شکایت کے بعد بیٹے کو ذہنی طور پر ہراساں کرنے والے طلبا کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔متوفی لڑکے کی والدہ آرتی ملہوترا کے مطابق میں نے اسکول میں بیٹے کو ہراساں کرنے والے طلبہ کے متعلق تمام متعلقہ اساتذہ کو بتا دیاتھا،نیز پرنسپل کو ان طلبا کے نام بھی بتادیئے ، جو میرے بیٹے کو ہراساں کیا کرتا تھا۔
حکام نے ہمیں کارروائی کا یقین دلایا، لیکن کچھ نہیں کیا گیا۔مقتول طالب علم کی ماں آرتی نے کہا کہ میرے بیٹے کو انصاف ملنا چاہیے۔ سینئر حکام اور ڈی پی ایس انتظامیہ کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے کہ وہ صرف پیسے کمانے کے لیے طلباء کے پس منظر کی تفتیش کئے بغیر داخلہ دے رہے ہیں۔
مقتول طالب علم کی والدہ کا مزید کہنا ہے کہ شکایت کرنے پر اسکول کے اساتذہ نے مجھے بھی ہراساں کیا، مجھے کھلے لفظوں میں دھمکی دی گئی کہ وہ اگلے سال سے میرے بیٹے کو اسکول میں نہیں رکھا جائے گا۔شائع رپورٹ کے مطابق متوفی۱۶؍سالہ طالب علم ڈسکوری سوسائٹی میں اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔
وہ ڈی پی ایس گریٹر فرید آباد کا طالب علم تھا۔ اس کی والدہ اسی اسکول میں فنون لطیفہ کی استاد ہیں۔ ماں نے شکایت میں کہا کہ اسکول کے لڑکے اس کے بیٹے کو ہم جنس پرست ’(GAY) کہہ کر بلاتے تھے۔ ان کے بیٹے کو کئی سالوں سے ہراساں کیا جا رہا تھا۔
اس سلسلے میں انہوں نے اسکول انتظامیہ کو ای میل کے ذریعے شکایت کی تھی۔مقتول طالب علم کی ماں کا کہنا ہے کہ اس کے سائنس کا امتحان 23 فروری کو تھا۔ اس نے سوال سمجھنے کے لیے ہیڈ مسٹریس ممتا گپتا سے مدد مانگی۔ الزام ہے کہ ممتا گپتا نے انہیں ڈانٹا اور کہا کہ وہ بیماری کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
گھر سے ملے سوسائڈ نوٹ میں مقتول طالب علم نے لکھا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے اسے مار دیا ہے ، انہوں نے اس کے لیے ہیڈ مسٹریس ممتا گپتا اور دیگر کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ پولیس اسٹیشن بی پی ٹی پی کے انچارج ارجن دیو نے بتایا کہ متوفی کی ماں کی شکایت اورسوسائڈ نوٹ کی بنیاد پر اسکول انتظامیہ ممتا گپتا کے خلاف خودکشی کے لیے اُکسائے جانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سوسائڈ نوٹ کو فارنسک جانچ کے لیے بھیجا جائے گا۔مقتول طالب علم اپنے سوسائد نوٹ میں لکھتا ہے :
’’پیاری ماں، آپ دنیا کی بہترین ماں ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں بہادر نہیں بن سکا۔ اس اسکول نے مجھے مار دیا ہے۔ میں اس نفرت بھری دنیا میں نہیں رہ سکتا، میں نے جینے کی بہت کوشش کی، لیکن لگتا ہے کہ زندگی کو کچھ اور چاہیے۔
لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں اس پر یقین نہ کریں۔ آپ سب سے بہتر ہیں۔ گھر والوں کو بتانا کہ میری جسمانی حالت اور میرے ساتھ کیا ہوا ہے، اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ کون کیا کہتا ہے۔ اگر میں مر گیا تو اپنے لئے ایک نئی نوکری تلاش کرلینا۔”’
آپ ایک فنکار ہیں، اسے جاری رکھیں، آپ فرشتہ ہیں، میں آپ کو اس جنم میں پا کر خوش قسمت ہوں۔ میں مضبوط نہیں ہوں، میں کمزور ہوں،جس کا مجھے افسوس ہے‘۔
مقتول کی ماں نے شکایت میں کہا کہ اسکول کے کئے طالب علم میرے بیٹے کو (GAY) کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کی شکایت اسکول انتظامیہ کو دی گئی ،لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس نے کئی بار زبانی طور پر اس بارے میں بات کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔



