روزہ اور رمضان✍️حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمیؒ
یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ،
رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے یہ مہینہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے ۔ اس کے متعلق حدیث پاک میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے شعبان کی آخر تاریخ میںہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے بہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ہے (شب قدر) جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض فرمایا اور اس کی رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے جو شخص اس مہینہ میں نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیساکہ غیر رمضان میں اس نے فرض ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیساکہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے۔
یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے، اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہوگا۔ مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کھلانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ جل شانہٗ ایک کھجور سے کوئی افطار کرادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے اس پر بھی مرحمت فرمادیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔
جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کردے اپنے غلام وخادم کے بوجھ کو حق تعالیٰ شانہٗ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی دیتے ہیں۔ اور چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔پہلی دوچیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں جنت کی طلب اور آگ سے پناہ مانگنا ہے جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ (قیامت کے دن) میری حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔
اس حدیث سے چندباتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اوّل نبی کریم ﷺ کا اہتمام کہ شعبان کی اخیر تاریخ میں خاص طور سے اس کا وعظ فرمایا اور لوگوں کو تنبیہ فرمائی تاکہ رمضان المبارک کا ایک منٹ اور ایک سکنڈ بھی غفلت سے نہ گزر جائے پھر اس وعظ میں تمام مہینہ کی فضیلت بیان فرمانے کے بعد چند اہم چیزوں کی طرف خاص طور سے متوجہ فرمایا۔ سب سے اول شب قدر کہ وہ حقیقت میں بہت ہی اہم رات ہے ۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ نے اس کے روزے کو فرض کیا اور اس کے قیام یعنی تراویح کو سنت کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تراویح کا ارشاد بھی خود حق سبحانہ وتقدس کی طرف سے ہے۔
ایثار وقربانی کا ایک واقعہ
ابوجہمؓ کہتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں اپنے چچا زاد بھائی کو تلاش کرنے چلا اور اس خیال سے پانی کا مشکیزہ بھی لے لیا کہ اگر اس میں کچھ رمق باقی ہوئی تو پانی پلادوں گااور ہاتھ منہ دھودوں گا۔ وہ اتفاق سے پڑے ہوئے ملے میں نے ان سے پانی کو پوچھا انہوں نے اشارے سے مانگا کہ اتنے میں برابر سے دوسرے زخمی نے آہ کی آپ کے چچا زاد بھائی نے پانی پینے سے پہلے اس کے پاس جانے کا اشارہ کیا۔ اس کے پاس گیا اور پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی پیاسے ہیں اور پانی مانگتے ہیں کہ اتنے میں ان کے پاس والے نے اشارہ کردیا۔ انہوں نے بھی خود پانی پینے سے قبل اس کے پاس جانے کا اشارہ کیا، اتنے میں وہاں تک پہنچا تو ان کی روح پرواز کرچکی تھی واپس دوسرے صاحب کے پاس پہنچا تو وہ بھی رخصت ہوچکے تھے تو لوٹ کر چچا زاد بھائی کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کا بھی وصال ہوگیا۔ یہ ہیں اسلاف کے ایثار کہ خود پیاسے جان دے دی اور اپنے مسلمان بھائی سے پہلے پانی پینا گوارہ نہ کیا۔
روزہ افطار کرانے کی فضیلت
اس کے بعد حضور ﷺ نے روزہ افطار کرانے کی فضیلت ارشاد فرمائی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جو شخص حلال کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کرائے اس پر رمضان کی راتوں میں فرشتے رحمت بھیجتے ہیں اور شب قدر میں جبرئیل علیہ السلام اس سے مصافحہ کرتے ہیں اور جس سے حضرت جبرئیل مصافحہ کرتے ہیں (اس کی علامت یہ ہے کہ ) اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔ حمادبن سلمہؒ ایک مشہور محدث ہیں روزانہ پچاس آدمیوں کے روزہ افطار کرانے کا اہتمام کرتے تھے۔
روزہ دار کے منہ کی بو مشک سے زیادہ پسندیدہ
اوّل یہ کہ روزہ دار کے منہ کی بدبو جو بھوک کی حالت میں ہوتی ہے حق تعالیٰ شانہٗ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ شراح حدیث نے اس لفظ کے مطلب میں مختلف اقوال بیان کئے ہیں ان میں سے چند آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں۔ اوّل یہ کہ حق تعالیٰ شانہٗ آخرت میں اس بدبو کا بدلہ اور ثواب خوشبو سے عطا فرمائیں گے جو مشک سے زیادہ عمدہ ہوگی ۔دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت میں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو یہ علامت ہوگی کہ روزہ دار کے منہ سے ایک خوشبو جو مشک سے بھی بہتر ہوگی وہ آئے گی۔ تیسرا مطلب یہ ہے وہ یہ کہ دنیا ہی میں اللہ کے نزدیک اس بو کی قدر مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
روزہ کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود دیں گے
ارشاد خداوندی ہے کہ ہر نیک عمل کا بدلہ ملائکہ دیتے ہیں مگر روزہ کا بدلہ میں خود عطا کرتا ہوں اس لئے کہ وہ خالص میرے لئے ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ لفظ اُجْزیٰ بِہٖ ہے یعنی یہ کہ اس کے بدلہ میں میں خود اپنے کو دیتا ہوں اور محبوب کے ملنے سے زیادہ اونچا بدلہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ساری عبادتوں کا دروازہ روزہ ہے یعنی روزہ کی وجہ سے قلب منور ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ہر عبادت کی رغبت پیدا ہوتی ہے مگر یہ اسی وقت ہے کہ روزہ بھی روزہ ہو صرف بھوکا رہنا مراد نہیں بلکہ آداب کی رعایت رکھ کر رکھا جائے۔
سرکش شیاطین کا قید ہونا
ایک خصوصیت سرکش شیاطین کا قید ہوجانا ہے کہ جس کی وجہ سے گناہوں کا زور کم ہوجاتا ہے۔ رمضان المبارک میں رحمت کے جوش اور عبادت کی کثرت کا تقاضا تو یہ تھا کہ شیاطین بہکانے میں بہت ہی کوشش کرتے اور ایڑی چوٹی کا زور ختم کردیتے اور اس وجہ سے گناہوں کی کثرت اس مہینہ میں اتنی ہوجاتی کہ حد سے زیادہ۔ لیکن باوجود اس کے یہ مشاہدہ ہے اور متحقق کہ مجموعی طور سے گناہوں میں بہت کمی ہوجاتی ہے ۔
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ جب آدمی کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب میں ایک کالا نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ سچی توبہ کرلیتا ہے تو وہ دھل جاتا ہے ورنہ لگا رہتا ہے اور اگر دوسری مرتبہ گناہ کرتا ہے تو دوسرا نقطہ لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اس کا قلب بالکل سیاہ ہوجاتا ہے پھر خیر کی بات اس کے قلب تک نہیں پہنچتی۔جب انسان غیر رمضان میں گناہوں کو کرتا رہتا ہے تو اس کا قلب اس سے رنگ جاتا ہے جس کی وجہ سے رمضان المبارک میں بھی ان کے سرزد ہونے کے لئے شیاطین کی ضرورت نہیں رہتی۔
روزہ داروں کی مغفرت
پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ رمضان المبارک کی آخری رات میں سب روزہ داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ چونکہ رمضان المبارک کی راتوں میں شب قدر سب سے افضل رات ہے اس لئے صحابہ کرام نے خیال فرمایا کہ اتنی بڑی فضیلت اسی رات کے لئے ہوسکتی ہے مگر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے فضائل مستقل علیحدہ چیز ہے یہ انعام تو ختم رمضان کا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین!



