برطانوی عدالت میں باپ اور سوتیلی ماں 10سالہ سارہ شریف کے قتل کے مجرم قرار
پاکستانی بچی کے والد اور سوتیلی ماں کو بدھ کے روز اس لرزہ خیز کیس میں اس کے قتل کا قصوروار پایا گیا
لندن ،12دسمبر (ایجنسیز) ایک 10 سالہ برطانوی پاکستانی بچی کے والد اور سوتیلی ماں کو بدھ کے روز اس لرزہ خیز کیس میں اس کے قتل کا قصوروار پایا گیا جس نے برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔42 سالہ عرفان شریف اور 30 سالہ بینش بتول کو سارہ شریف کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہے جس کی لاش گزشتہ سال ان کے گھر میں ملی تھی، اس بچی کے جسم پر ہڈیاں ٹوٹنے، جلنے اور دانتوں سے کاٹنے کے نشانات سمیت بہت سے زخم آئے تھے۔اس کے 29 سالہ چچا فیصل ملک کو بھی لندن کی اولڈ بیلی فوجداری عدالت میں جیوری کی ایک ہفتے کی بحث کے بعد اس کی موت کا سبب بننے یا اس کی اجازت دینے کا مجرم پایا گیا۔
سارہ 10 اگست 2023 کو لندن کے جنوب مغرب میں ووکنگ میں اپنے بستر پر مردہ پائی گئی تھیں۔ سزا یافتہ خاندان کے تین افراد ایک دن پہلے ہی پاکستان فرار ہو گئے تھے۔اس کے والد نے اس کی لاش کے پاس ہاتھ سے لکھا ہوا ایک نوٹ چھوڑا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ”میرا مقصد اسے مارنا نہیں تھا۔اس کے ایک ماہ بعد برطانیہ کی پولیس نے 10 سالہ سارہ شریف کی موت کی تحقیقات میں پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے دبئی سے برطانیہ پہنچنے والے دو مردوں اور ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے۔عرفان شریف نے شروع میں تمام الزامات سے انکار کیا اور سارہ کی موت کا ذمہ دار بینش بتول کو ٹھہرایا۔
تاہم گزشتہ ماہ انتہائی غم وغصے کا باعث بننے والے اس مقدمے میں جب ملزموں سے جرح کی گئی تو شریف نے، جو ٹیکسی ڈرائیور ہیں، اپنی بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا، لیکن اس پر قائم رہے کہ ان کا مقصد اسے نقصان پہنچانا نہیں تھا۔بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں ایک مرد کی عمر 41 برس، دوسرے کی 28 برس جب کہ خاتون کی عمر 29 برس بتائی گئی۔سرے پولیس کا کہا تھا کہ ان تینوں افراد کو پولیس نے قتل کے شبہے میں حراست میں لیا گیاتھا۔سارہ شریف کی ہلاکت کی تحقیقات میں پیش رفت ہونے کی ایک اُمید اُس وقت نظر آنا شروع ہوئی جب 13 ستمبر کو اس کیس سے جڑے تینوں افراد کی پاکستان سے برطانیہ روانگی سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کو گیٹ وک ایئر پورٹ پر دبئی سے آنے والی پرواز سے حراست میں لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا ان میں سارہ کے والد عرفان شریف، سوتیلی والدہ بینش بتول اور چچا عرفان ملک شامل تھے۔پولیس کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق سارہ کی لاش 10 اگست کو اس وقت ملی تھی جب برطانوی پولیس کو ایمرجنسی نمبر پر کال کر کے دو بج کر 30 منٹ پر ووکنگ کے علاقے میں ایک گھر کے ایڈریس پر بُلایا گیا۔پاکستان کے نمبر سے کال کرنے والے شخص کی شناخت سارہ کے والد عرفان شریف کے طور پر ہوئی تھی۔
مزید تحقیقات کے بعد پولیس کو معلوم ہوا تھا کہ سارہ کی لاش ملنے سے ایک روز قبل یعنی 9 اگست تک عرفان شریف، بینش بتول اور عرفان سارہ کے پانچ بہن بھائیوں کے ساتھ اسی گھر میں رہتے تھے۔ یہ تمام افراد ہنگامی حالت میں ٹکٹ بک کرا کر پاکستان روانہ ہو گئے تھے۔سارہ کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا دائرہ کار برطانیہ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی بڑھایا گیا۔ انٹرپول سمیت دیگر اداروں کی درخواست پر پاکستان میں پولیس نے تینوں مطلوب افراد کے آبائی شہر جہلم میں عرفان شریف کی بہن کے گھر بھی پوچھ گچھ کے لیے چھاپے مارے لیکن کوئی معلومات ہاتھ نہ لگیں۔
پنجاب پولیس کی کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد 11 ستمبر کو جہلم میں عرفان شریف کے والد محمد شریف کے گھر سے برطانیہ سے والدین کے ہمراہ آنے والے پانچوں بچے پولیس نے تحویل میں لیے تھے۔بچوں کے دادا نے ان کی کسٹڈی کے لیے جہلم کی سیشن عدالت میں درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کرتے ہوئے عدالت نے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے حوالے کر دیا تھا۔
بیورو ان بچوں کو لاہور منتقل کر چکا ہے۔چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو کی چیئر پرسن سارہ احمد نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ بیورو نے بچوں کی رہائش کا خاص انتظام کیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان ان کا کہنا تھا کہ تمام بچے خصوصاََ سارہ کا سب سے بڑا 13 سالہ سگا بھائی صدمے کی کیفیت میں ہے۔ اس لیے جب تک بچوں سے متعلق نئے عدالتی احکامات نہیں آ جاتے تب تک بچوں کی ذہنی و جسمانی حفاظت چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی ذمہ داری ہے۔



