نئی دہلی ، 11،جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ ایک باپ اپنی بالغ بیٹی کی دیکھ بھال اور اس کی شادی کے اخراجات برداشت کرنے کی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتا، خواہ لڑکی برسرِ روزگار کیوں نہ ہو ۔ ہائی کورٹ نے متعلقہ قوانین پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے کہا کہ باپ اپنی غیر شادی شدہ بیٹیوں کی دیکھ بھال اور شادی کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے ایک شخص کو اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے رقم ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔
بنچ نے مزید ریمارکس دیئے کہ کنیا دان ایک ہندو باپ کی ایک اہم اور پاکیزہ ذمہ داری ہے، جس سے وہ منحرف نہیں ہوسکتا۔ وہیں عدالت نے اس شخص کو بڑی بیٹی کی شادی کے لیے 35 لاکھ روپے اور چھوٹی بیٹی کی شادی کے لیے 50 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔
ہائی کورٹ نے باپ کے ان دلائل کو یکسر مسترد کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی بیٹی بالغ ہوتے ہی خود کماتی ہے، اس لیے اسے پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہندوستانی معاشرے میں شادی خاندان کی حیثیت کے مطابق ہوتی ہے۔
ہندوستانی معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کے بعد سے اس کی شادی کو سب سے اہم کام سمجھا جاتا ہے۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ غیر شادی شدہ بیٹیوں کی شادی کے اخراجات ادا کرنے سے انکار افسوسناک ہے اور حقائق کے پیش نظر والد کی مالی حالت ٹھیک ہے ،اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
یہ والدین دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی طور پر بھی اپنے بچوں کو ان کے معیار زندگی کے مطابق کفالت اور سہولیات فراہم کریں۔ہائی کورٹ نے کہا کہ دونوں بیٹیاں شادی کی اہل ہیں اور چھوٹی بیٹی کی شادی بھی طے کر دی گئی ہے۔ بنچ نے کہا کہ بڑی بیٹی کی شادی میں بھی رقم کی ضرورت ہے۔
ان حالات کے پیش نظر والد کو چھوٹی بیٹی کی شادی کے لیے 50 لاکھ روپے اور بڑی بیٹی کی شادی کے لیے 35 لاکھ روپے ایک ہفتے میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ باپ اور بیٹی کے درمیان جو فطری پیار اور محبت ہوتی ہے ، وہ دنیا کے کسی فرد کے درمیان نہیں ہو سکتا۔فیملی کورٹ نے طلاق تو دے دی تھی ،لیکن خاتون اور اس کی دو بیٹیوں کو کفالت دینے سے انکار کر دیا تھا، اس کیخلاف خاتون نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔



