تلنگانہ کی خبریں

لمپی وائرس کے تعلق سے عوام میں خوف بدستور برقرار

ملک میں تاحال 67 ہزار جانور ہلاک ، 8 ریاستوں میں وائرس کی شدت

حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) لمپی وائرس کے تعلق سے عوام کے خوف میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ بڑے جانوروں میں پھیلے اس خطرناک وائرس کے شدت اختیار کرجانے کے سبب عوام گوشت کے استعمال سے پرہیز کرنے لگے ہیں اور ایک دوسرے کو یہ تلقین کی جارہی ہے کہ بڑے جانور کے گوشت کو ترک کردیا جائے ۔ عوام میں اس بڑھتے خوف کا اثر آج بازاروں میں دیکھائی دینے لگا ہے ۔ دوکانوں میں گوشت کی خریداری نہیں ہورہی ہے جس دوکانوں میں گوشت کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا اس دوکانوں میں اب گاہکوں کا انتظار کیا جانے لگا ہے اور سماج کے ہر گوشہ میں گوشت کو ترک کرنے کی ایک دوسرے کو صلاح و تلقین کی جارہی ہے ۔ بلکہ افراد خاندان نے اپنے رشتہ داروں کو گوشت کا استعمال فوری طور پر بند کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔

شادی ، برات و تقاریب دوست احباب کی محفلوں میں بڑے جانور میں پھیلے خطرناک وائرس ہی کا ذکر چل رہا ہے ۔ مرکزی حکومت کے اقدامات اور وائرس کی ویکسین کے متعلق اقدامات سے مزید خوف بڑھ گیا ہے ۔ مرکز کی جانب سے ویکسین کی تیاری میں چار ماہ کا وقت درکار ہونے کا انیمل ہسبنڈری کے سکریٹری جتیندر ناتھ نے اعلان کیا ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تاحال اس وائرس کے سبب 67 ہزار جانور ہلاک ہوگئے ہیں اور ملک کی 8 ریاستوں میں یہ وائرس شدت اختیار کرگیا ہے جب کہ شدید متاثرہ ان ریاستوں میں ویکسنیشن جاری ہے اور وائرس کی روک تھام کے لیے گوٹ پاکس ویکسین دیا جارہا ہے ۔

دیسی طور پر تیار کردہ ویکسین کو مارکٹ میں دستیاب کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور مرکزی حکومت کی جانب سے تمام ریاستوں میں ویکسین کو پہونچانے کے لیے موثر اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ باوجود اس کے وائرس جانوروں کو تیزی سے متاثر کررہا ہے ۔ مرکزی وزارت زرعی ریسرچ آئی اے سی آر سے تعلق رکھنے والے دو اداروں کی جانب سے تیار کردہ ویکسین لمپی ، یرو ویکسین آئندہ تین تا 4 ماہ میں مارکیٹ میں دستیاب رہے گا ۔ فی الحال وائرس کے ذریعہ شدت سے متاثرہ ریاستوں میں گجرات ، راجستھان ، پنجاب ، ہریانہ ، اترپردیش ، اترکھنڈ ، مدھیہ پردیش ، جموں و کشمیر شامل ہیں ۔

مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 20 کروڑ جانور پائے جاتے ہیں ۔ جہاں تک ریاست تلنگانہ کا سوال ہے ریاست میں لمپی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور ریاست کے 26 اضلاع میں لمپی وائرس کے اثرات پائے جاتے ہیں اور تقریبا 3 ہزار بڑے جانور متاثر ہیں ۔ بڑے جانوروں میں پائے جانے والے اس خطرناک وائرس کے سبب عوام کو خوف اور حالات کو دیکھ کر تاجرین نے بھی عارضی طور پر اپنے کاروبار کو بند رکھا ہے ۔

شہر حیدرآباد کی اکثر بڑی مارکٹ اور بازاروں میں پائے جانے والی دوکانات کے مالکین بھی محدود انداز میں گوشت کو فروخت کرنے لگے ہیں اور گوشت فراہم کرنے والی ہوٹلوں پر بھی عوامی خوف کے سایہ اور اس کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں ۔ لمپی وائرس کے سبب پیدا شدہ خوف کو دور کرنے اور وائرس سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ماہرین گوشت کے استعمال کو ترک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور اکثر شہری بھی گوشت کا استعمال بند کرچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button