
شکاگو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ میں مقیم ایک ایرانی نژاد امریکی خاتون صحافی کے اغوا کی سازش کے الزام میں "ایرانی انٹیلی جنس کے چار ایجنٹوں” کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ بات امریکی عدلیہ نے منگل کے روز بتائی۔ مذکورہ خاتون صحافی ایران میں "انسانی حقوق کی خلاف ورزی ے کے اسکینڈل” کے حوالے سے سرگرم ہے۔
امریکی عدلیہ نے خاتون صحافی کے نام کا انکشاف نہیں کیا تاہم نیویارک میں مقیم ایرانی خاتون صحافی اور سماجی کارکن مسیح علی نجاد نے اپنی ایک ٹویٹ میں ایسا اظہار کیا ہے گویا وہ اس بات کی تصدیق کر رہی ہوں کہ اغوا کی سازش کا نشانہ وہ خود تھیں۔امریکی #وزارت #انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چاروں ملزمان مرد ہیں ، وہ جون 2020ء سے ایک خاتون صحافی اور لکھاری کو اغوا کرنے کی کوشش میں رہے۔
اس خاتون صحافی نے ایرانی حکومت کی جانب سے مرتکب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے #شرمناک #اسکینڈل کو بے نقاب کیا تھا۔امریکی پبلک پراسیکیوٹر کے بیان کے مطابق چاروں #ملزمان نے بزور طاقت اپنے شکار کو ایران منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ وہاں پہنچ کر خاتون صحافی کو لا پتہ ہی ہو جانا تھا۔
مسیح علی نجاد سے #ٹیلی #فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ملزمان کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سازش کے بارے میں جان کر دھچکا پہنچا ہے۔خاتون #صحافی نے بتایا امریکہ میں FBI کے افسران نے دوران تحقیق انہیں اور ان کے #شوہر کو #سیکورٹی وجوہات کی بنا پر سلسلہ وار مختلف گھروں میں منتقل کیا۔ #مسیح علی نجاد کے مطابق "انہیں یقین نہیں آتا کہ وہ امریکا میں بھی محفوظ نہیں ہیں”۔
پبلک پراسیکیوٹر کے بیان کے مطابق چار ملزمان کے علاوہ ایک پانچویں ایرانی خاتون نیلوفر بہادر (Niloufar Bahadorifar) بھی ہے۔ کیلی فورنیا میں مقیم اس خاتون پر اغوا کی سازش کی فنڈنگ میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔



