اسپورٹسسرورق

خواتین کھلاڑیوں کو اپنی جنس ثابت کرنے کے لیے اپنے کپڑے اتارنے پڑتے ہیں-سویڈش فٹبالر نیلا فشر

ورلڈ کپ میچ سے پہلے ٹیم کی تمام خواتین کھلاڑیوں کو ڈاکٹروں کی موجودگی میں اپنے پرائیویٹ پارٹس دکھانا پڑا

سویڈن :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سویڈن کی سابق خاتون فٹبالر کی کتاب نے سنسنی مچا دی ہے۔ اس کتاب میں سابق سویڈش فٹبالر نیلا فشر Sweden footballer Nilla Fischer نے جنس کے تعین کے ٹیسٹ کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2011 کے ورلڈ کپ سے قبل سویڈن کی پوری ٹیم کو جنس کے تعین کے ٹیسٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے لیے انہیں ڈاکٹروں کے سامنے اپنے پورے کپڑے اتارنے پڑے۔ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ افواہیں تھیں کہ کچھ ٹیموں میں مرد کھلاڑی خواتین کے روپ میں ہیں۔فشر کے اس انکشاف کے بعد دنیا بھر میں اس قسم کے صنفی ٹیسٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

2011 کا ورلڈ کپ جرمنی میں منعقد ہوا۔ اس دوران افواہیں پھیل گئیں کہ ٹیم میں مختلف ممالک کے مرد کھلاڑی بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنی جنس بدلی۔ جس کے بعد جرمنی اور بعض دیگر ممالک میں اس ٹورنامنٹ کی مخالفت ہوئی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔جس کے بعد ٹورنامنٹ کا انعقاد کرنے والی فیفا نے جنس جانچ کا یہ راستہ اختیار کیا۔

ورلڈ کپ میچ سے پہلے ٹیم کی تمام خواتین کھلاڑیوں کو ڈاکٹروں کی موجودگی میں اپنے پرائیویٹ پارٹس دکھانا پڑا۔فشر کے مطابق سویڈش کی پوری ٹیم کو جانچا گیا۔ اس ٹیم میں کوئی مرد کھلاڑی نہیں ملا۔ڈاکٹروں نے ایک ایک کر کے تمام کھلاڑیوں کے پرائیویٹ پارٹس دیکھے اور ان کے خاتون ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ تبھی سویڈش ٹیم کے کھلاڑی اپنا بقیہ میچ کھیلنے میں کامیاب ہو سکے ۔ایک سویڈش اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے نیلا فشر نے کہا کہ یہ سارا عمل ذلت آمیز تھا۔ نامعلوم ملک میں نامعلوم ڈاکٹروں کے سامنے خواتین کھلاڑیوں کو اپنے کپڑے اتارنے پڑے۔فشر نے یہ بھی کہا کہ وہ مقابلے سے باہر نہیں ہونا چاہتی تھی یا ان پر مرد ہونے کا الزام نہ آئے۔ جس کی وجہ سے وہ اور اس کے ساتھی خواہش کے باوجود اس تحقیقات کی مخالفت نہ کر سکے اور انہیں اپنا جنس ٹیسٹ کروانا پڑا۔

جبکہ میچ شروع ہونے سے پہلے ہی تمام ممالک کی جانب سے لکھا گیا کہ ان کی ٹیم میں کوئی بھی مرد کھلاڑی موجود نہیں ہے۔جنس کا ٹیسٹ منہ کے تھوک سے بھی کیا جاتا ہے، فیفا نے اس کا انتخاب نہیں کیا۔2011 کےجنس امتحان کی مخالفت کی جا رہی ہے کیونکہ اس کے اور طریقے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی میچوں میں خواتین کھلاڑیوں کے منہ سے تھوک لے کر جنس کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ ہارمون ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔

لیکن فیفا جیسے بڑے میچ میں اس کے بجائے جسمانی طور پر ٹیسٹ کیا گیا۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ تھوک یا ہارمون ٹیسٹ سے جنس کی رپورٹ آنے میں کافی وقت لگتا ہے اور یہ افواہ 2011 کے ورلڈ کپ میں بڑے پیمانے پر پھیلی تھی۔ پورا ٹورنامنٹ تنازعات میں پھنس جانے کا خطرہ تھا۔ ایسے میں فیفا نے جلد بازی میں جسمانی جنس ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا۔

بھارتی کھلاڑی پر بھی مرد ہونے کا الزام لگا

دتی چند ملک کے ریکارڈ ہولڈر رنر رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف مقابلوں میں ملک کے لیے کئی تمغے جیتے ہیں۔ لیکن 2014 میں اولمپکس سے ٹھیک پہلے، ان کے کیریئر میں وقفہ آگیا۔ ہارمون ٹیسٹ کے بعددتی چند ملک پر مرد ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ تاہم، دتی نے ان الزامات کی تردید کی۔اس الزام کے بعد بھارت کی ایتھلیٹکس فیڈریشن نے انہیں اولمپکس میں شرکت سے روک دیا۔

تمل ناڈو کی شانتی سندرراجن نے 2006 کے ایشیائی کھیلوں میں ملک کے لیے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ لیکن میچ کے فوراً بعد ان کا جنس ٹیسٹ کیا گیا۔ جس میں بتایا گیا کہ و ہ عورت ہونے کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔ جس کے بعد ان پر کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی اور ایشین گیمز میں جیتنے والا سلور میڈل بھی واپس لے لیا گیا۔

انٹرسیکس

کھیلوں کی دنیا میں مردو خواتین کے الگ الگ مقابلے ہوتے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کے حوالے سے بھی کئی تنازعات ہیں جنہوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ انٹرسیکس کے معاملے میں بھی کئی بار جھگڑا ہوتا ہے۔ انٹر سیکس پرسن کا مطلب ایسا شخص ہے جسے واضح طور پر نہ مرد کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی عورت۔وہ مرد اور عورت کی صنفی بائنری سے الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ جسمانی یا ذہنی طور پر مرد یا عورت نہیں ہیں۔ ان کے اندرونی اور بیرونی جنسی اعضاء مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ اگر شرمگاہ خواتین کی ہو تو جسم میں بچہ دانی یا بیضہ دانی نہیں ہوتی۔ اگر شرمگاہ مرد کی ہو تو خصیہ نہیں ہوتا۔ جب ایسے لوگ خواتین کے مقابلے میں حصہ لیتے ہیں تو اکثر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button