میتھی ذیابیطس کے کنٹرول میں معاون
ذیابیطس کے علاج میں میتھی کو انتہائی مؤثر پایا گیا ہے
ذیابیطس کے علاج میں میتھی کو انتہائی مؤثر پایا گیا ہے طبی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی نے ہزاروں مریضوں پر تخم میتھی استعمال کروایا۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیج ذیابیطس اور دل کے امراض میں مفید پائے گئے ہیں میتھی کے بیج روزانہ بیس گرام پیس کر کھانے سے چند دنوں کے اندر ہی خون میں شکر کی مقدار کم ہوجاتی ہے اگرچہ علامات مرض میں کمی ہونے سے مریض کو خود بھی فائدے کا اندازہ ہوجاتا ہے لیکن بہتر ہے کہ ہر دس دن بعد شوگر کا باقاعدہ ٹیسٹ کروالیا جائے۔ میتھی کے بیج کا استعمال سو گرام روزانہ تک پھی کیا جاسکتا ہے۔ میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی سبزی میں ملاکر بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔
شوگر کے مریضوں کو میتھی کے بیج استعمال کروانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیجوں کو پیس لیں اور صبح دوپہر شام بیس بیس گرام سادہ پانی سے استعمال کریں۔ شوگر زیادہ ہو تو تیس تیس گرام اور اگر کم ہو تو دس دس گرام بھی صبح دو پہر شام استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ مذکورہ بالا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیجوں کا استعمال ذیابیطس میں انتہائی مفید ہے اس دوران چاول، آلو، گوبھی، اروی کیلا اور دیگر میٹھی اشیاء سے پرہیز ضروری ہے صبح کی سیر بھی لازمی ہے۔
میتھی موسم سرما کی سبزی ہے۔ میتھی میں وٹامن اے، بی، سی، فولاد، فاسفورس اور کیلشیم پایا جاتا ہے۔ میتھی کے نہ صرف پتے بلکہ اس کابیج بھی کئی کھانوں، اچار وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ میتھی کے کیمیائی تجزیہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس میں وٹامن اے، بی اور سی بکثرت پائے جاتی ہیں، اس کے بیجوں میں لحمی اجزاء کے برابر پروٹین ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں چالیس فیصد نباتی روغن، معدنی نمک تین فیصد، نشاستہ دار اجزاء پندرہ ریشہ دار اجزاء تین فولاد آٹھ فیصد پایا جاتا ہے۔ کیلشیم اور پوٹاشیم کی مناسب مقدار اس میں پائی جاتی ہے۔
میتھی مختلف بیماریوں میں مفید دوا کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس میں پائے جانے والے لیس دار اور ریشہ دار اجزاء سے جھلیوں اور گردوں کی سوزش ختم ہوجاتی ہے۔ اسے مچھلی کے تیل کا نعم البدل بھی کہا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے مختلف پکوانوں میں میتھی کو بطور مسالہ استعمال کیا جاتا ہے جس سے پکوان پر ذائقہ ہوتا ہے۔ اس کے پتوں میں خوشبو کم ہوتی ہے لیکن اس کے بیجوں میں خوشبو بہت زیادہ ہوتی ہے۔
دبلے پتلے نوجوانوں کے جسم پر گوشت آنے کے لئے اطباء میتھی اور منقی ملاکر دیتے ہیں۔ میتھی بلغم کو خارج کرتی ہے، پھیپھڑوں کی اندرونی جھلی کی صحت کی محافظ ہے۔ میتھی کے پتوں کا لیپ لگانے سے سر کی خشکی دور ہوجاتی ہے۔
پیٹ کے امراض میں میتھی کا استعمال مفید بتایا جاتا ہے۔ اسہال اور پیچش میں پسی ہوئی میتھی کا پانی پلانے سے افاقہ ہوتا ہے۔ بھوک کی کمی میں اس کا استعمال مفید مانا جاتا ہے۔ خونی بواسیر میں یہ بہت کام آتی ہے۔ اس کے بیج، تبخیر معدہ، جلن آنت، پرانی پیچش میں مفید ہیں۔ اس کے بیج، تبخیر معدہ، جلن، آنت، پرانی پیچش میں مفید ہیں۔ اس کے بیج اور گلاب کی پتیوں کو پیس کر کھلانے سے پیٹ کی مروڑ کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔
طبی ماہرین کے نزدیک میتھی کا ساگ بھوک اور حرارت کو بڑھاتا ہے۔ کمزور ہاضمہ کی صورت میں پیٹ کے ریاح درد کو ختم کرنے کے لئے میتھی کا ساگ کھلایا جاتا ہے۔ یہ شکم کے کیڑوں کو بھی ہلاک کرتی ہے، میتھی کا کثرت سے استعمال نقصان زہ ہے۔ زائد استعمال سے درد سر اور متلی کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔ میتھی کے استعمال سے موسمِ سرما کے کئی امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ سردی سے ہاتھ اور منہ پھٹ جانے کی شکایت پر میتھی کا تیل لگانا بہتر رہے گا اس سے چہرے کی جھائیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ میتھی کی پتیوں سے تیار کی گئی چائے کونین کی مانند عمل کرتی ہے اور پسینہ زیادہ مقدار میں خارج کرکے بخار کی شدت کو کم کرتی ہے۔ یہ گلے کی سوجن کو دور کرنے میں بھی مؤثر ہے۔
میتھی کی چند مزید خصوصیات سے اس سبزی کے فوائد کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا۔
میتھی کے استعمال سے آنکھوں کی پیلاہٹ دور ہوتی ہے۔
میتھی کے استعمال سے منہ کا کڑوا ذائقہ درست ہوجاتا ہے۔
میتھی کھانے سے رال بہنے جیسے مسئلے سے نجات ملتی ہے۔
میتھی بھوک کی کمی کو دور کرتی ہے۔
میتھی کھانے سے کھٹی ڈکاروں میں آرام آتا ہے۔
میتھی کھانے سے بدہضمی سے نجات ملتی ہے۔
میتھی کا استعمال قبض سے نجات دلاتا ہے۔
میتھی خون کی کمی کو دور کرتی ہے۔
میتھی کھانے سے جلد پر خاص طور پر چہرہ پر رونق آجاتی ہے۔
میتھی کا استعمال جسم کے دروں سے آرام پہنچاتا ہے۔
میتھی کے استعمال سے خون میں کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے۔
میتھی بلغم اور گلے کی خراش میں فائدہ مند ہے۔
میتھی کے شوربہ کا استعمال دمہ کے مریضوں کیلئے مفید ہے۔



