بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیش: فیکٹری میں آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 52 تک پہنچ گئی

ڈھاکہ ، ۹/جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ واقع ایک فیکٹری کی عمارت میں بہت بڑے پیمانے پر آ گ بھڑکنے کے سبب کچھ لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لیے کھڑکیوں سے باہر چھلانگیں لگا دیں۔ یہ امر ہنوز غیر واضح ہے کہ کتنے لوگ #فیکٹری کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق #بنگلہ دیش کے دارالحکومت #ڈھاکہ کے مضافاتی صنعتی علاقے روپ گنج میں قائم فیکٹری ’ ہاشم فوڈ اینڈ بیوریجز‘ میں آگ لگنے کا یہ واقعہ جمعرات کی شب مقامی وقت کے مطابق قریب پانچ بجے شام کو پیش آیا تھا۔

تاہم جمعہ کی صبح تک اس فیکٹری سے آگ کے شعلے بھڑکتے دکھائی دیے۔ دریں اثناء فیکٹری میں کام کرنے والے کارکنوں کے رشتہ داروں اور فیکٹری کے دیگر ورکرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ دیگر کارکن فیکٹری کی عمارت میں ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں اور یہ جان بچا کر فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔مقامی پولیس چیف زائد العالم اس حادثے کی ابتدائی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ#آتشزدگی کا شکار ہونے والے تین افراد زخموں کی تاب نہ لا تے ہوئے انتقال کر گئے۔

تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں اب تک کم از کم 52 افراد کی اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ قبل ازیں پولیس انسپکٹر شیخ کبیرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ لگنے کے اس حادثے میں کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے کچھ اس چھ منزلہ عمارت میں آگ کے شعلے تیزی سے بھڑکنے کے بعد بالائی منزل سے کود پڑے تھے۔پولیس کے مطابق فیکٹری کے درجنوں کارکن لاپتہ ہیں تاہم پولیس نے بعد ازاں اپنے بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ کتنے افراد عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔

آگ بجھانے والے عملے کے ایک ترجمان دبا شش بردھان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہاکہ جب آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا جائے گا تب ہم فیکٹری کے اندر سرچ آپریشن کر کے ہی بتا سکیں گے کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد کتنی ہے۔ اُدھر فائر فائٹرز نے فیکٹری کی عمارت کی چھت، جہاں نوڈلز اور مشروبات تیار کی جاتی تھیں، سے 25 افراد کو بچایا تھا۔

دریں اثناء ’ہاشم فوڈ اینڈ بیوریجز‘ فیکٹری میں آگ لگنے کے حادثے میں بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہونے والے ایک ورکر محمد سیف ا لاسلام نے بتایا کہ جب آگ کے شعلے بھڑکنا شروع ہوئے تو فیکٹری کے اندر درجنوں کار کن موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسری منزل پر دونوں سیڑھیوں کے دروازے بند کر دیئے گئے تھے۔ دیگر ساتھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اس وقت فیکٹری کے اندر 48 افراد موجود تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button