آندھرا پردیش میں پٹاخہ فیکٹری میں خوفناک آگ، 6 ہلاک، 8 شدید زخمی
فیکٹری میں حفاظتی اقدامات کی کمی یا کیمیکل کے غلط استعمال کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آندھرا پردیش کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کوناسیما ضلع میں بدھ کی دوپہر ایک خوفناک حادثہ پیش آیا، جب کوماری پالم گاؤں کے لکشمی گنپتی پٹاخہ فیکٹری میں اچانک زوردار دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے میں کم از کم 6 افراد جھلس کر ہلاک اور 8 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ اس وقت لگی جب مزدور آتشبازی کے پٹاخے تیار کر رہے تھے۔ انتہائی آتش گیر کیمیکلز کی وجہ سے شعلے تیزی سے پھیل گئے اور کئی مزدور اندر ہی پھنس گئے، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
مقامی رہائشیوں نے دھواں دیکھ کر فوری طور پر حکام کو اطلاع دی۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ تاہم، آگ کی شدت کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل ثابت ہوا۔پولیس، ریونیو عہدیداران اور محکمۂ فائر کے اہلکار موقع پر موجود ہیں اور ریسکیو و ریلیف کارروائیاں جاری ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر راجمندری گورنمنٹ اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ فیکٹری میں حفاظتی اقدامات کی کمی یا کیمیکل کے غلط استعمال کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔ پولیس نے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رام چندرپورم کے سب ڈویژنل پولیس افسر بی۔ رگھویِر کے مطابق، فیکٹری کو گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران دو مرتبہ وارننگ دی گئی تھی، جبکہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداران نے اسے نوٹس بھی جاری کیے تھے۔
وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:”اس افسوسناک حادثے میں قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دکھ کا باعث ہے۔ میں نے حکام سے حادثے کی وجوہات، موجودہ صورتحال، ریلیف اور طبی امداد پر رپورٹ طلب کی ہے۔ سینئر افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ جائے وقوعہ کا معائنہ کریں اور زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کریں۔ ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
حکام کے مطابق وزیراعلیٰ نے حادثے کے بعد ریلیف اور میڈیکل امداد کے انتظامات کا جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کو متاثرین کے لیے فوری مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔



