فارنسک جانچ شروع،سماجوادی پارٹی نے کہا،سخت کارروائی ہونی چاہیے
نئی دہلی3فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اویسی نے کہا ہے کہ آج جب وہ میرٹھ کے کیتاپور سے انتخابی مہم چلانے کے بعد دہلی واپس آرہے تھے تو چھجرسی ٹول پلازہ کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔اویسی کا دعویٰ ہے کہ 3-4 لوگوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی اور وہ اپنے ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
فارنسک جانچ شروع کردی گئی ہے۔سماجوادی پارٹی نے معاملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔سماجوادی پارٹی نے یہ بھی کہاہے کہ جمہوریت میں کسی بھی طرح کے تشددکی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
اویسی کی گاڑی پر گولی چلانے کی خبر افسوس ناک ہے،مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے ایک ٹویٹ میں لکھاہے کہ کچھ دیر پہلے چھجرسی ٹول گیٹ پر میری گاڑی پر گولیاں چلائی گئیں۔ چار راؤنڈفائرکیے گئے۔
وہاں 3-4 لوگ تھے، سب بھاگ گئے اور ہتھیار وہیں چھوڑ گئے۔ میری گاڑی پنکچرہو گئی لیکن میں دوسری گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔ ہم سب محفوظ ہیں۔ تیسری گولی مبینہ طور پر گاڑی کے ٹائر پر لگی۔ ایم پی اویسی دوسری کار میں چلے گئے۔ اویسی نے میرٹھ میں ایک میٹنگ سے خطاب کیا۔یوپی میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت 10 فروری کو ووٹنگ ہونی ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے الزام لگایا ہے کہ اتر پردیش میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔
اویسی کے مطابق جب وہ اتر پردیش میں انتخابی مہم چلانے کے بعد دہلی واپس آرہے تھے تو ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ آئی جی میرٹھ کے مطابق پلکھوا ٹول پلازہ پر فائرنگ کی بات ہو رہی ہے۔ ہم سی سی ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ تاہم ٹول اہلکاروں نے کہا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔
فی الحال اتنی اطلاع ملی ہے کہ اویسی کا قافلہ جا رہا تھا، اس دوران کچھ لوگوں میں آپسی بحث بھی ہوئی۔ کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔ کسی بھی قسم کی تصدیق جانچ کے بعد ہی کی جائے گی۔



