
منی پور میں مسلمانوں پر فائرنگ، محمود مدنی نے وزیرداخلہ کو لکھا مکتوب
فائرنگ میں چار مسلمانوں کی موت پر افسوس
دیوبند؍دہلی، 3 جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جمعیۃ علماء ہند (میم)کے صدر مولانا محمود مدنی نے ریاست منی پور میں تشدد میں اضافہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فائرنگ میں چار مسلمانوں کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاستی حکومت کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر داخلہ اور ریاست کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا ہے۔منگل کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے وزیر داخلہ امت شاہ اور منی پور ریاست کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ کو خط لکھ کر اس گھناؤنے جرم کے مجرموں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں میتی پنگل کے لوگ آباد ہیں۔
یہاں کے وہ مسلمان جو ابھی تک میتی اور کوکی گروپوں کے درمیان ذات پات کے تنازعہ میں شامل نہیں ہوئے ہیں، اب انہیں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ریاستی حکومت کی غیر ذمہ داری کا نتیجہ ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ فرقہ وارانہ تانے بانے کی مرمت اور تمام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ترجیح ہونی چاہیے۔مولانا مدنی نے پورے واقعے اور بھتہ خوری کے واقعات کے پس منظر کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات، جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ اور زخمیوں کو جامع طبی امداد دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مولانا مدنی نے ریاستی جمعیۃ علماء کے عہدیداروں کو امن کے قیام میں ہر ممکن کردار ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔



