
فیروزآباد:21ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اترپردیش کے ضلع فیروزآباد کے شکوہا آباد علاقے میں یمنا ایکسپریس وے پر دلی سے شکوہا آباد آتے وقت چلتی بس میں ماں۔بیٹی کے ساتھ سلیپر بس کے کلینر اور کنڈکٹر کے ذریعہ چھیڑ چھاڑ اور عصمت داری کا معاملہ پیش آیا ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک کمار شکلا نے آج یہاں بتایا کہ ایک خاتون اپنی بیٹی اور بہن کی بیٹی کے ساتھ بدرپور سرحد سے پرائیویٹ بس نمبر یوپی 85 سی ٹی 0262 پر سوار ہوکر شکو ہا آباد آرہی تھی۔
یہ بس دہلی سے کانپور دیہات تک چلتی ہے۔ متاثرہ کے ذریعہ تھانے میں دی گئی تحریر کے مطابق بس میں کنڈکٹر انشو اور کلینر ببلو نے اسے اندر سیلپر پر بلایا اورشراب پینے کو دیا۔ اس کے بعد ببلو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چھیڑ چھاڑ کی ۔خاتون کا الزام ہے کہ جیور ٹول پلازہ کے پہلے اچانک انل نے بس روک دی۔ متاثرہ کا الزام ہے کہ جب وہ قضائے حاجت کے لئے نیچی گئی اسی دوران انشو نے اس کی بیٹی کو کیبن میں بلا کر اس کے ساتھ عصمت دری کیا۔
جب وہ بس میں آئی تو بیٹی نے روتے ہوئے اپنے ساتھ پیش آئے واقعہ کی جانکاری دی۔احتجاج درج کیا تو ببلو ضلع متھرا کے نوہ جھیل کےنزدیک بس سے اتر کر فرار ہوگیا۔جبکہ انشو مانٹ علاقے میں بس سے اتر گیا۔متاثرہ نے فیروزآبا دپہنچ کر اپنے اہل خانہ کو حادثے کی جانکاری دی۔ اہل خانہ نے بس کو پرتاپ پور چوراہے پر روک اور بس کو تھانے لے کر آئے۔
مسٹر شکلا نے بتایا کہ ہم معاملے کی جانچ کررہے ہیں۔متاثرہ نے تحریر دی ہے۔ اس پر پولیس نے انشو یادو عرف آلوک اور ببلو کے خلاف مقدمہ درج کر کے جانچ شروع کردی ہے۔پولیس نے انشو کو گرفتار کرلیا ہے۔متاثرہ کو میڈیکل جانچ کے لئے بھیجا گیا ہے



