نیویارک ،7جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی ریاست فلوریڈا میں دو سالہ بچے نے غلطی سے اپنے والد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بچے کے والدین نے بندوق محفوظ جگہ پر رکھنے کے بجائے لاپرواہی سے گھر میں رکھی ہوئی تھی۔جب پولیس حکام 26 مئی کو 911 پر کال موصول ہونے کے بعد اورلینڈو کے قریب واقع گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے بچے کی والدہ میری آیالا Marie Rose Ayala کو اپنے شوہر ریگی میبری کو سی پی آر دے رہی تھیں۔
اورنج کاؤنٹی کے شیرف Sheriff جان مینا نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ابتدائی طور پر خیال تھا کہ 26 سالہ نوجوان جو ہسپتال پہنچتے ہی کچھ دیر بعد دم توڑ گیا، نے خود کو گولی مار لی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس کے بڑے بیٹے نے تفتیش کاروں کو بعد میں بتایا کہ اس کے دو سالہ بھائی سے غلطی سے بندوق چل گئی تھی۔عدالتی دستاویزات میں کہا گیا کہ بندوق ایک بیگ میں تھی جسے ریگی میبری نے زمین پر چھوڑ دیا تھا۔
بچہ اس بیگ کے پاس آیا اور اس نے اپنے والد کو اس وقت پیٹھ میں گولی مار دی جب وہ کمپیوٹر پر ویڈیو گیم کھیل رہے تھے۔شیرف نے بتایا کہ دونوں والدین بچوں کو نظرانداز کرنے اور منشیات کے استعمال کے متعدد جرائم کے بعد پیرول پر تھے۔جان مینا نے کہا کہ بندوق کے مالک جو اپنے آتشیں اسلحے کو صحیح طریقے سے محفوظ نہیں رکھتے وہ اپنے گھروں میں ہونے والے ان واقعات سے صرف ایک سیکنڈ کے فاصلے پر ہیں۔
شیرف Sheriff نے مزید کہا کہ اب ان چھوٹے بچوں نے اپنے والدین کو کھو دیا ہے۔ ان کے والد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کی والدہ Marie Rose Ayala جیل میں ہیں۔ ایک چھوٹے بچے کو اپنی زندگی اس صدمہ کے ساتھ گزارنی ہے کہ اس نے اپنے والد کو گولی ماری ہے۔امریکہ میں ایسے واقعات کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
اگست 2021 میں ایک اور دو سالہ بچے کو بیگ میں ایک بندوق ملی تھی اور اس نے اپنی والدہ کے سر میں اس وقت گولی ماری جب وہ ایک ویڈیو کانفرنس میں حصہ لے رہی تھیں۔یہ واقعہ اس وقت زیر بحث آیا ہے جب امریکہ میں فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے قانون سازوں سے اسلحے کی روک تھام کے لیے سخت قوانین منظور کرنے کی اپیل کی تھی۔



