مخالف ہیش ٹیگ سے گھبرا کر فوڈ ڈیلیوری کمپنی ’Swiggy ‘نے ہٹایا اشتہار
ہولی کے دن آن لائن فوڈ ڈیلیوری کمپنی ’Swiggy‘ کیخلاف سوشل میڈیا پر زوردار مہم دیکھنے کو ملی۔
نئی دہلی ، 9مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہولی کے دن آن لائن فوڈ ڈیلیوری کمپنی ’Swiggy‘ کیخلاف سوشل میڈیا پر زوردار مہم دیکھنے کو ملی۔ ’ہندوفوبک سویگی‘ اور ’بائیکاٹ سویگی‘ جیسے ہیش ٹیگ کا خوب استعمال ہوا۔ لوگوں کی یہ ناراضگی اس لیے تھی کیونکہ سویگی نے اپنے ایک اشتہار میں ہولی کھیلنے سے متعلق کچھ اہم مشورے دیئے تھے۔ دراصل کمپنی نے ہولی کے لیے آملیٹ والا ایک بل بورڈ اشتہار کچھ مقامات پر لگائے تھے۔ اس میں کچھ رنگوں کے ساتھ انڈوں کی تصویر ہے اور تین باتیں بطور مشورہ لکھی گئی ہیں۔ پہلی لائن میں ’آملیٹ‘ لکھا ہے جس کے پہلے ’صحیح‘ کا نشان لگا ہے۔ دوسری لائن میں ’سنی سائیڈ اَپ‘ لکھا ہے اور اس کے پہلے بھی ’صحیح‘ کا نشان لگا ہے۔ تیسری لائن میں لکھا ہے ’کسی کے سر پر‘، اور اس سے پہلے ’کراس‘ کا نشان لگا ہوا ہے۔ یعنی پہلی دو باتوں پر عمل کرنے اور تیسری بات پر عمل نہ کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ گویا کہ انڈے کسی کے سر پر نہ مارے جائیں۔
لوگ بس اسی بات سے ناراض ہیں کہ سویگی اس طرح کا اشتہار دے کر ہندو آستھا کو چوٹ پہنچانے کا کام کر رہی ہے۔ہندو طبقہ کے ذریعہ اس اشتہار کی شدید مخالفت اور ناراضگی کے بعد آن لائن فوڈ ڈیلیوری ایپ نے انڈے والا اشتہار ہٹا دیا ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے اب تک سویگی کی طرف سے کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن خبر رساں کے مطابق ’’بل بورڈ اشتہار صرف دہلی-این سی آر میں تھے ، اسے اب ہٹالئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ کئی ہندوتوا لیڈروں نے سویگی کے مذکورہ اشتہار پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) لیڈر سادھوی پراچی نے تو 7 مارچ کو ہی ایک ٹوئٹ کیا تھا ۔گجرات میں بی جے پی یوتھ مورچہ کے سابق صدر ہاردک بھاوسار نے بھی سویگی کے اس اشتہار پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ سویگی کا ایپ فوری طور پر اَن انسٹال کر یں۔ یوپی کے سابق بی جے پی رکن اسمبلی ارون کمار یادو نے بھی ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ متنازعہ ہورڈنگ کو فروغ دے کر اور ریل پوسٹ کر کے ہندو فوبک سویگی نے لاکھوں لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔



