بے خوابی کو دور کرنے والی غذائیں,ڈاکٹر قرۃ العین فاطمہ عثمان دہلی
کیا اکثر آپ کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور کروٹیں بدلتے رہتے ہیں؟
کیا اکثر آپ کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور کروٹیں بدلتے رہتے ہیں؟ اگر ہاں تو آپ کو سونے سے قبل چند غذاؤں کو کھا کر آزمانا چاہیے جن میں ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جو جلد سونے میں مدد دینے کے ساتھ اس کا معیار بھی بہتر بناتے ہیں۔ویسے یہ جان لیں کہ نیند کی کمی متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ بے خوابی کی شکایت اکثر ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے کی جانب اشارہ کررہی ہوتی ہے۔
کیلے: کیلے ٹرپٹوفان نامی امینو ایسڈ سے بھرپور ہونے کے ساتھ میگنیشم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں، یہ دونوں اجزاء نیند میں مدد دینے والے ہارمون میلاٹونین بننے کے لیے ضروری ہوتے ہیں، اس پھل کی 90 فیصد کیلوریز کاربوہائیڈریٹس کے ذریعے ملتی ہیں جو کہ پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
شہد: سونے کے لیے لیٹنے سے قبل ایک کھانے کا چمچ شہد استعمال کرلینا اچھی نیند میں مدد دیتا ہے۔ شہد میں بھی کیلے کی طرح امینو ایسڈ ٹرپٹوفان موجود ہوتا ہے جو کہ نیند کا معیار اچھا کرتا ہے۔ شہد میں موجود قدرتی مٹھاس انسولین کی سطح کو معمولی سا بڑھاتی ہے جس سے ٹراپٹوفن کو دماغ میں آسانی سے داخل ہونے میں مدد ملتی ہے۔
دودھ: سونے سے قبل ایک گلاس گرم دودھ بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی ٹرپٹوفان موجود ہوتا ہے، جس کی اہمیت اوپر درج کی جاچکی ہے۔
پنیر: ویسے تو گرم دودھ بھی سونے میں مدد دے سکتا ہے مگر دودھ سے بنی دیگر مصنوعات بھی یہ کام کرسکتی ہیں، پنیر میں موجود کیلشیئم دماغ کو ٹرائپٹو فون کو استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے نیند میں مدد دینے والا ہارمون میلاٹونین حرکت میں آجاتا ہے۔
بابونہ اور سبز چائے: سبز چائے کو دماغ کی صحت اور تھکاوٹ کیلئے بہتر سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اگر اسے نیند سے ایک گھنٹہ قبل پیا جائے تو پر سکون نیند آتی ہے۔اسی طرح بابونہ پودے کی چائے بھی پر سکون نیند میں مدد گار ہوتی ہے، یہ ایک خاص قسم کی پھول نما جڑی بوٹی ہے، جس کے پتے سفید اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔
جلیبی: جلیبی کھانے سے بلڈ شوگر اور انسولین لیول میں قدرتی طور پر اضافہ ہوتا ہے، جو کہ عام معمول کے مقابلے بہت کم وقت میں جلد نیند لانے میں مدد دیتا ہے۔
چیری کا جوس: اس موسم میں دستیاب یہ پھل بھی لیٹتے ہی سونے میں مدد دے سکتا ہے۔ ایک امریکی طبی تحقیق کے مطابق چیری کے جوس کا ایک گلاس پینا نیند میں مدد دینے والے ہارمون میلاٹونین کی سطح بڑھاتا ہے، اس جوس کے استعمال سے بے خوابی کی شکایت میں کمی آسکتی ہے۔
اخروٹ: اخروٹ ٹرپٹوفان کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں،ایک امریکی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اخروٹ سے جو اجزاء جسم کا حصہ بنتے ہیں وہ لیٹتے ہی سونے میں مدد دیتے ہیں۔
بادام: بادام میگنیشم سے بھرپور گری ہے، یہ منرل اچھی نیند اور ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا جب جسم میں میگنیشم کی سطح کم ہوتی ہے تو سونا مشکل ہوجاتا ہے اور زیادہ وقت کروٹیں بدلنا پڑتی ہیں۔
چاول: سفید چاول میں گلیسمیک انڈیکس کافی مقدار میں ہوتا ہے جو جلد سونے میں مدد دیتا ہے۔ ایک آسٹریلین تحقیق کے مطابق جو لوگ سفید چاول کھا کر سونے کے لیے لیٹتے ہیں انہیں زیادہ وقت انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
خشک آلو بخارے: خشک آلوبخاروں میں موجود وٹامن بی سکس، کیلشیم اور میگنیشم سمیت دیگر میلاٹونین کو حرکت میں لاکر سونے میں مدد دیتے ہیں، اس مقصد کے لیے خشک آلو بخارے کو بستر پر لیٹنے سے آدھے گھنٹے پہلے کھالیں۔نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لئے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔
ورم لوزتین یعنی ٹونسل کا علاجدوائے گلو: طبا شیر خالص، الائچی خورد، مغز کنول ڈوڈہ (سبز رنگ کا پتہ دور کرکے) ناسپال ،کتھ سفید، گیرو، زیرہ سفید، جملہ ادویات مساوی الوزن لے کر نہایت باریک پیس کر ان کے برابر مصری ملائیں، بوقت ضرورت بچے کے گلے پر چٹکی سے لگائیں، گلے کے تمام امراض کے لئے مفید ہے۔ بڑے آدمیوں کو مغز املتاس ۵۰ گرام ایک سیر پانی میں جوش دے کر غرغرے کرانامفید ہے۔ علاوہ ازیں بچوں کے لئے صرف سوڈابائیکارب کا سفوف لگا نا بھی مفید ہے۔ گلے آنے کا علاج(۱) لعوق خیار شنبر صبح شام آدھا آدھا چمچ لیں۔ (2) املتاس کی پھلی کا مغز ایک چمچ کے بقدر ایک گلاس پانی میں ابالیں اور تھوڑا سا نمک ڈال کر غرغرہ کریں۔ انشاء اللہ مرض میں افاقہ ہوگا۔ (3) بہدانہ چار گرام ، تخم خطمی ۳گرام، اصل السوس چار گرام ،عناب ۵ دانے لیسوڑھا چار گرام، ان تمام کو ۱۰۰ ملی گرام پانی میں جوش دیں اور صبح وشام اس جوشاندہ کا استعمال کریں۔ ٹانسل میں بے انتہا مفید ہے۔ دمہ کا علاجھوالشافی:۔ ابرق سیاہ ایک پائو، قلمی شورہ پچاس گرام، دہی پچاس گرام، اور قلمی شورہ ملالیں۔ ابرق کے باریک پترے بنالیں۔ ،ایک کوزہ گلی لے کر اس میں پہلے ابرق کی تہہ رکھیں۔ اس کے ا وپر ایک تہہ قلمی شورہ دہی میں ملایا ہوا رکھیں۔ اس طرح یکے بعد دیگرے رکھتے جائیں اور برتن کو گل حکمت کرکے دس سیر اپلوں کی آگ دیں۔ سرد ہونے پر نکال کر کشتہ شدہ ابرق کو باریک پیس لیں۔ مقدار خوراک ایک سے دو چاول بقدر مکھن یا بالائی میں لپیٹ کر نگل لیں۔ دن میں دوبار استعمال کرائیں دمہ پرانی کھانسی اور پرانے بخار کے لئے نہایت ہی مفید دوا ہے۔ |



