علاقائی دفاتر کیلئے عالمی کمپنیوں کو ’نیم پلیٹ‘ سے بڑھ کر اپنا وجود ثابت کرنا ہو گا

الریاض: (ایجنسیاں)سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ ریجنل دفاتر کے حوالے سے کاغذی کارروائی کافی نہیں ہو گی البتہ جو کمپنیاں اپنے ریجنل دفاتر ریاض میں کھولیں گی انہیں متعدد ترغیبات حاصل ہوں گی۔خالد الفالح نے ان خیالات کا اظہار معاصر عزیز عرب نیوز کے فلیگ شپ ویڈیو شو ’فرینکلی سپیکنگ‘میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جو کمپنیاں 2024 تک اپنے ریجنل دفاتر ریاض منتقل نہیں کریں گی ان کے ساتھ سرکاری لین دین بند کردیا جائے گا۔
#FranklySpeaking: #Saudization will not be forced – but a choice – for companies deciding to move their HQs to the kingdom, Investment Minister @Khalid_AlFalih tells Arab News | Full episode here: https://t.co/SR0MGkxNgl pic.twitter.com/95Eaf3a7FH
— Arab News (@arabnews) February 22, 2021
وزیر سرمایہ کاری کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی ان کمپنیوں کا خیر مقدم کریں گے جو ہمارے یہاں ریجنل دفاتر کھولنے میں دلچسپی ظاہر کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کے لیے پرائیویٹ سیکٹر میں بہت سارے مواقع ہیں۔ حکومت اس حوالے سے کوئی مداخلت نہیں کرے گی البتہ خارجی کمپنیوں کو سعودی پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ کام کی سہولتیں فراہم کرے گی۔خالد الفالح نے خبردار کیا کہ ریجنل دفاتر کے حوالے سے کاغذی خانہ پری کافی نہیں ہوگی
البتہ جو کمپنیاں اپنے ریجنل دفاتر ریاض میں کھولیں گی انہیں متعدد ترغیبات حاصل ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے سعودیوں کو خارجی کمپنیوں کے ریجنل دفاتر کی ریاض میں منتقلی سے فائدہ ہوگا۔
سعودی عرب چاہتا ہے کہ اعلی معیار کے بین الاقوامی ماہرین ہمارے یہاں قیام کا انتخاب کریں۔ اتنا ہی نہیں کہ وہ یہاں ملازمت کی وجہ سے سکونت پذیر اختیار کریں ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سعودی عرب میں اپنی رہائش رکھیں۔



