سابق بیوروکریٹ اوراے پی جے کلام کے پریس سکریٹری ایس ایم خان کا انتقال
سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے پریس سکریٹری ایس ایم خان بھی چل بسے
نئی دہلی،18نومبر (ایجنسیز) ایس ایم خان،ممتاز سینئر انڈین انفارمیشن سروس آفیسر جو سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے پریس سکریٹری تھے، مختصر علالت کے بعد اتوار کو ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ 67 سال کے تھے۔ خان کے پسماندگان میں بیوی اور تین بچے ہیں۔وہ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) میں ایک نمایاں شخصیت تھے، جو 1989 سے 2002 تک ایجنسی کے لیے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے انفارمیشن آفیسر تھے۔ اپنے پورے دور میں، وہ سی بی آئی کا چہرہ بن گئے، جس میں بوفورس اسکینڈل، اسٹاک ایکسچینج گھوٹالے اور مختلف وائٹ کالر جرائم سمیت ہائی پروفائل کیسز کے دوران میڈیا سے باقاعدگی سے خطاب کیا۔
سی بی آئی کے ساتھ اپنی وسیع خدمات کے بعد، خان کو آنجہانی صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے پریس سکریٹری کے طور پر مقرر کیا گیا، ایک ایسا کردار جس میں انہوں نے عوامی رابطے میں اپنی ساکھ کو مزید مستحکم کیا۔ کلام کی مدت کے بعد خان دوردرشن میں نیوز کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر ایک باوقار عہدے پر چلے گئے۔ عوامی خدمت میں اپنے قابل ذکر کیریئر کے علاوہ، خان نے’’عوامی صدر‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی ،جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے اجرا کیا تھا۔ وہ انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں نائب صدر اور ٹرسٹی کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔
ایس ایم خان کا انتقال ہندوستانی عوامی خدمت اور میڈیا تعلقات کے لیے ایک دور کے خاتمے کا نشان ہے، جو اپنے کام کے لیے دیانت اور لگن کی میراث چھوڑ گیاہو۔ایس ایم خان 15 جون 1957 کو اترپردیش کے بلند شہر ضلع کے قصبے خورجہ میں پیدا ہوئے تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور انگلینڈ کی ویلس یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے اپنا کیریر 1982 میں انڈین انفارمیشن سروس سے شروع کیا تھا۔
انہوں نے سی بی آئی کے ترجمان، دوردرشن کے ڈائریکٹر جنرل(نیوز)، پی آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ پریس رجسٹرار جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ سابق صدرجمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے پریس سیکرٹری بھی رہے اور ان پر’’عوامی صدر‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی۔ ایس ایم خان کی تدفین خورجہ (بلند شہر) میں کردی گئی ۔



