بین ریاستی خبریں

سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی پنجاب کی پٹیالہ سیٹ سے شکست

پنجاب،10؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پنجاب کے سابق وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ پٹیالہ اربن سیٹ سے الیکشن ہار گئے ہیں۔ امریندر جو کبھی کانگریس کے مضبوط لیڈر تھے، نے وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنی پارٹی پنجاب لوک کانگریس بنائی۔

انہوں نے اور سابق اکالی لیڈر سکھ دیو سنگھ ڈھنڈسا کی پارٹی نے پنجاب اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا۔کیپٹن جو دو بار پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے، کو عام آدمی پارٹی کے امیدوار اجیت پال سنگھ نے شکست دی۔پنجاب کے اسمبلی انتخابات کئی سابق سیاستداں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کانگریس نے پنجاب میں شکست کا ٹھیکرا امریندرسنگھ پر پھوڑا-انتخابی جائزہ کے لیے سونیا گاندھی نے میٹنگ طلب کی

 پنجاب میں عبرتناک شکست کے بعد بھی کانگریس الزام اور جوابی الزامات کی سیاست میں مصروف ہے۔انہوں نے اس شکست کے لیے کانگریس کی قیادت یا کسی دوسرے لیڈر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا، بلکہ اس شکست کا ذمہ دار کیپٹن امریندر سنگھ کو ٹھہرایا۔

انہوں نے کہا کہ کیپٹن امریندر سنگھ ساڑھے چار سال تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے اور عوام ان سے ناراض تھی۔ سرجے والا نے کہاہے کہ کپتان کی حکومت کی وجہ سے اینٹی انکمبنسی تھی اور ہم عوام کو اس کی وضاحت نہیں کر سکے۔رندیپ سرجے والا نے کہاہے کہ ہم نے گوا اور اتراکھنڈ میں پوری طاقت سے مقابلہ کیا، لیکن عوام کو قائل نہیں کر سکے۔ ہم نے الیکشن کو مذہبی مسائل کے علاوہ عوام کے مسائل پر لانے کی مسلسل کوشش کی ہے۔

تعلیم، صحت سے لے کر ہر چیز پر ہم نے پوری توجہ دی ہے۔ لیکن جذباتی مسائل نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہم الیکشن جیتیں یا ہاریں لیکن عوام کے مسائل کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ ہم خود کا جائزہ لیں گے اور شکست کی وجوہات پر غور کریں گے۔ ادارے کے لیے کام کریں گے اور مستقبل میں بہتری کے لیے کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہاہے کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے فیصلہ کیا ہے کہ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلائی جائے گی، جس میں شکست کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے ہم الیکشن ہار گئے ہوں لیکن ہمت نہ ہاریں۔

ہم تمام جیتنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ایک طرف رندیپ سرجے والا نے امریندر سنگھ کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا تو دوسری طرف انہوں نے یہ کہہ کر سبق لینے کا عندیہ بھی دیا کہ سونیا گاندھی نے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہے کہ شکست کے بعد کانگریس میں ایک بار پھر ہنگامہ آرائی شروع ہوسکتی ہے۔

یہی نہیں پنجاب میں بھی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو اور سی ایم چرنجیت سنگھ چنی بھی الیکشن ہار چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button