گوا کی سیاست میں انٹری کے لیے ٹی ایم سی کی بڑی تیاری سابق وزیراعلیٰ تھام سکتے ہیں ممتا کا دامن
کولکاتہ؍پنجی ،27؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس آسام اور تریپورہ میں داخل ہونے کے بعد گوا کی سیاست میں دستک دینے والی ہے۔ ممتا بنرجی کے بھتیجے اور ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اعلان کیا ہے کہ ترنمول کانگریس جلد گوا میں انٹری کرے گی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن ڈیرک او برائن پہلے سے ہی گوا میں ہیں۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
ٹی ایم سی کے انٹری کی خبر ایسے وقت میں آئی ہے جبکہ اگلے سال ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔بحث جاری ہے کہ کانگریس کے تجربہ کار لیڈر اور گوا کے سابق وزیر اعلیٰ لوئی جنہو فیلیرو luizinho faleiro جلد ترنمول کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں۔لوئی نے گوا کی نویلیم سیٹ سے کانگریس ایم ایل اے کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا ، ممتا بنرجی سے کل یا بدھ کو ملنے کا امکان ہے۔پیر کے روز ایک خطاب میں ، لوئزنہو فیلیرو نے کہا کہ وہ کانگریس میں تکلیف اٹھا چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ گوا کے لیے مصائب ختم ہوں۔”میں نے باوقار خاموشی کا سامنا کیا۔ اگر میری تکلیف بہت زیادہ تھی تو گواکی حالت زار کا تصور کریں جنہوں نے کانگریس کو اقتدار میں ووٹ دیا۔ آئیے اس مصیبت کو ختم کریں اور گوا میں ایک نئی صبح لائیں- انھوں نے کہا کہ ٹی ایم سی لیڈر ممتا بنرجی کو گوا کی ضرورت ہے
سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ میں کافی غور وفکر کررہا ہوں۔ میں سب کچھ پڑھ رہا ہوں۔ ایک بات میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ گوا کے لوگ پریشانی کا شکار ہیں ، کسی کو توکھڑا ہونا ہوگا۔ میں وقت آنے پر اپنے رد عمل کا اظہار کروں گا۔ ذرائع کے مطابق کانگریس لیڈر نے اس اقدام پر گزشتہ جمعرات کو راجیہ سبھا میں ترنمول لیڈر ڈیریک او برائن سے بات چیت کی۔ تاہم ابھی تک نہ فلیریو اور نہ ہی ترنمول کانگریس کی طرف سے کوئی جواب آیا ہے۔
عام آدمی پارٹی نے گوا اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو بھی تیز کر دیا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنے پروگراموں کا آغاز کر دیا ہے۔ 2022 میں گوا کے ساتھ اتر پردیش ، اتراکھنڈ ، پنجاب اور دیگر ریاستوں میں انتخابات ہیں۔
ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے واضح کیا ہے کہ تریپورہ اور آسام کے ساتھ ساتھ ان کی پارٹی گوا کو بھی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاست کے کئی کانگریس لیڈر ٹی ایم سی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔



