سابق وزیراعلیٰ کجریوال کے بنگلے کے اخراجات کی تفتیش ہوگی
بنگلے کی تزئین و آرائش اور لگژری اشیاء پر ہونے والے اخراجات کی تحقیقات کا حکم دیا
نئی دہلی ،15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دراصل، سینٹرل ویجیلنس کمیشن نے اروند کجریوال کے 6 فلیگ بنگلے کی تزئین و آرائش اور لگژری اشیاء پر ہونے والے اخراجات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔بھاجپا کے ایم ایل اے وجیندر گپتا نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ہونے والے اخراجات کی شکایت کی تھی۔ اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ وجیندر گپتا نے اس سلسلے میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کو خط بھی لکھا تھا۔
خط کے ذریعے انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی سرکاری رہائش گاہ 6، فلیگ اسٹاف روڈ پر غیر قانونی تعمیرات اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ پر بھی زور دیا کہ وہ جائیداد کو اس کی اصل حالت میں بحال کریں اور بغیر کسی تاخیر کے قریبی سرکاری املاک پر سے تجاوزات کو ہٹا دیں۔ایل جی کو لکھے گئے اپنے خط میں وجیندر گپتا نے الزام لگایا تھا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے عوام کے پیسے کا استعمال کرتے ہوئے ان کی سرکاری رہائش گاہ کو شیش محل میں تبدیل کیا، جو مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر اخلاقی تھا۔
ایسی صورت میں جائیداد کو اصل حالت میں بحال کیا جائے اور قریبی سرکاری املاک پر سے تجاوزات کو بلا تاخیر ہٹایا جائے۔وجندر گپتا نے خط میں مزید لکھا کہ اس عالیشان کوٹھی کی تعمیر کے لیے دہلی کے خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، جب کہ شہر کے مکین بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔



