سیسودیا کو بیوی سے ملاقات کی اجازت، درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ
پولیس کی حراست میں اپنی بیوی سے ملاقات کر سکیں گے
نئی دہلی،2 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ نے دہلی شراب پالیسی معاملہ کے مبینہ گھوٹالہ میں ای ڈی کے ذریعہ درج کیس میں منیش سسودیا کی مستقل ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ تاہم منیش سیسودیا کو عدالت سے فوری راحت مل گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے سیسودیا کو کل (ہفتہ) چند گھنٹوں کے لیے عبوری راحت دی ہے اور وہ پولیس کی حراست میں اپنی بیوی سے ملاقات کر سکیں گے۔منیش سیسودیا نے اپنی بیوی کی خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت کا مطالبہ کیا تھا لیکن ای ڈی نے اس کی مخالفت کی۔ ای ڈی نے کہا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے عبوری ضمانت کی درخواست واپس لے لی تھی۔
اب دوبارہ انہی بنیادوں پر عبوری ضمانت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جانچ ایجنسی کی جانب سے کہا گیا کہ سیسودیا پولیس کی موجودگی میں اپنی بیوی سے مل سکتے ہیں۔اس معاملے میں عدالت نے سیسودیا کو کل چند گھنٹوں کے لیے عبوری راحت فراہم کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے کل شام تک سیسودیا کی بیوی کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ وہیں عدالت نے عام آدمی پارٹی کے کمیونی کیشن انچارج وجے نائر کی درخواست ضمانت پر بھی فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے شرط رکھی ہے کہ منیش سیسودیا عبوری ضمانت کے دوران میڈیا سے بات نہیں کریں گے اور صرف خاندان کے علاوہ کسی سے بات نہیں کریں گے۔ موبائل اور انٹرنیٹ کابھی استعمال نہیں کریں گے۔نئی ایکسائز پالیسی دہلی میں کجریوال حکومت نے 17 نومبر 2021 کو نافذ کی تھی۔ دہلی حکومت نے نئی ایکسائز پالیسی لا کر مافیا راج کو ختم کرنے کی دلیل دی تھی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اس سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ جولائی 2022 میں دہلی کے اس وقت کے چیف سکریٹری نے اس معاملے میں ایل جی وی کے سکسینہ کو رپورٹ پیش کی۔
اس میں ایکسائز پالیسی میں گڑبڑ کے ساتھ ساتھ نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا پر شراب کے تاجروں کو ناجائز فائدہ پہنچانے کا بھی الزام لگایا گیا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر سی بی آئی نے 17 اگست 2022 کو سسودیا سمیت 15 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ 22 اگست کو ای ڈی نے ایکسائز پالیسی میں منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کیا۔ 6 ماہ کی تفتیش کے بعد سی بی آئی نے سیسودیا کو گرفتار کر لیا۔



