بین ریاستی خبریں

سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ کی جے بی ٹی گھوٹالہ میں سزا مکمل کاغذی کارروائی مکمل ہونے پر جلدہوں گے رہا

نئی دہلی،23؍ جون: (اردودنیا/ایجنسیاں)ہریانہ کے مشہور جے بی ٹی گھوٹالہ میں سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ کی سزا منگل کو مکمل ہوگئی۔ کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے ساتھ ہی ان کی رہائی کے احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ تاہم اوم پرکاش چوٹالہ پیرول پر باہر ہیں ، لہٰذا اب انہیں جیل جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ سال 2013 میں سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ کو جے بی ٹی بھرتی گھوٹالے میں 10 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

سزا کے وقت کاصحیح استعمال کرتے ہوئے ہریانہ کے 82 سالہ سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ نے بارہویں جماعت کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کرلیا۔ سزا کے دوران وہ تہاڑ جیل میں قیدیوں کے لئے قائم کیے گئے سینٹر میں نیشنل اوپن اسکول کے زیر اہتمام 12 ویں امتحان میں شریک ہوئے تھے ۔ فائنل امتحان 23 اپریل کو ہوا تھا۔

اس دوران وہ پیرول پر باہر تھے لیکن چونکہ امتحانی سنٹر جیل کے احاطے کے اندر تھا لہٰذا وہ دوبارہ جیل گئے اور امتحان میں حاضر ہوئے۔واضح رہے کہ کہ 22 جنوری 2013 کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے چوٹالہ سمیت کل 55 ملزمان کو اس معاملے میں سخت قید کی سزا سنائی تھی۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ ملزم نے غیر قانونی طور پر 3206 جونیئر بنیادی اساتذہ کی بھرتی کی تھی۔

یہ بھرتی 2000 میں کی گئی تھی اور اس وقت اوم پرکاش چوٹالہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ملزم نے زیریں عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ کیس کی سماعت کے دوران او پی چوٹالہ کو میڈیکل گراؤنڈ پر عبوری ضمانت مل گئی۔ بعدازاں اکتوبر 2014 میں ہائی کورٹ نے انہیں جیل کے سامنے سرینڈر کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button