احمد آباد، 8نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر کیس میں مشہور ہونے والے سابق آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا نے گجرات اسمبلی انتخابات سے عین قبل اپنی نئی پرجا وجے پکشا (پارٹی) کو میدان میں اتارنے کا اعلان کردیا ہے۔سابق آئی پی ایس افسر نے گجرات میں ہندوتوا کے ایجنڈے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو احمد آباد میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ڈی جی ونجارا نے کہا کہ وہ ریاست کے لوگوں کو خوف اور بدعنوانی سے نجات دِلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ پرجا وجے پارٹی کو انتخابی میدان میں اترنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کی پارٹی صرف ایک پارٹی نہیں ہے، بلکہ یہ گجرات کے لیے ایک سیاسی متبادل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی گزشتہ 27 سالوں سے حکومت کر رہی ہے۔
بی جے پی ایک ہندوتوا پارٹی ہے اور گجرات کے لوگوں کی سوچ اور نظریہ ہندوتوا ہے، اس لیے اس جیسی کوئی دوسری پارٹی ریاست میں متبادل بن سکتی ہے۔ونجارا نے کہا کہ گجرات کے لوگ بی جے پی کے متبادل کی تلاش میں ہیں۔ ان کی نئی پارٹی بی جے پی کا متبادل بننے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرجا وجے پکشاپارٹی کا نظریہ ہندوتوا ہے۔انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ اگر کانگریس متبادل ہوتی، تو پچھلے گزشتہ 27 سالوں سے بی جے پی حکومت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی پوری طاقت کے ساتھ ریاست میں الیکشن لڑے گی۔
خیال رہے کہ ڈی جی ونجارا انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے طور پر سرخیوں میں تھے۔ وہ گجرات کیڈر کے 1987 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں۔گجرات پولیس میں ان کی شبیہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ جیسی رہی ہے۔ وہ پہلے کرائم برانچ میں تھے اور بعد میں گجرات اے ٹی ایس یعنی انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے سربراہ تھے۔ اس کے بعد وہ پاکستان کی سرحد سے ملحقہ بارڈر رینج کے آئی جی رہے۔وہ 2002 سے 2005 تک ڈپٹی کمشنر آف پولیس، کرائم برانچ، احمد آباد رہے۔
ونجارا کو 2007 میں گجرات سی آئی ڈی نے فرضی انکاؤنٹر کیس میں گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد جیل چلے گئے تھے،،انہیں 2007 میں معطل کر دیا گیا تھا۔سہراب الدین کے علاوہ وہ عشرت جہاں انکاؤنٹر کا بھی ملزم تھے۔ 2004 میں، عشرت جہاں کے تین ساتھی احمد آباد پولیس کے ایک فرضی انکاؤنٹر میں مارے گئے تھے۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ چاروں دہشت گرد تھے اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو قتل کرنے کے ارادے سے گجرات آئے تھے۔



