قومی خبریں

جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ شبیو سورین کا 81 برس کی عمر میں دیہانت

گذشتہ ماہ فالج ہونے کے بعد سے وہ وینٹی لیٹر پر تھے

نئی دہلی، 4 اگست (اردو دنیا نیوز)جھارکھنڈ کے بااثر قبائلی رہنما اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ (JMM) کے بانی شبیو سورین کا دیہانت ہو گیا۔ وہ 81 برس کے تھے۔ شبیو سورین طویل عرصے سے علیل تھے اور دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔ گذشتہ ماہ فالج ہونے کے بعد سے وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔شبیو سورین نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1970 کی دہائی میں قبائلی حقوق کے لیے جدوجہد سے کیا۔ انہوں نے 1973 میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد بہار کے جنوبی اضلاع سے علیحدہ قبائلی ریاست کا قیام تھا۔2000 میں جب جھارکھنڈ کو ریاست کا درجہ دیا گیا، تو سورین ریاست کی سیاست میں مرکزی کردار بن کر ابھرے۔

وہ تین بار ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے، تاہم ہر بار سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اپنی مدت مکمل نہ کر سکے۔مرکزی سطح پر بھی ان کا سیاسی سفر اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا۔ 2004 میں وہ کانگریس حکومت میں کوئلہ وزیر بنے، لیکن جلد ہی ایک قتل کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہائی ملی اور وہ دوبارہ مرکزی کابینہ کا حصہ بنے، مگر 1994 میں اپنے ذاتی سیکریٹری ششی ناتھ جھا کے اغوا اور قتل کے کیس میں دوبارہ سزا ہونے پر انہیں وزارت چھوڑنی پڑی۔ وہ بالآخر 2018 میں تمام الزامات سے بری ہو گئے۔
ان کے بیٹے ہیمنت سورین، جو اس وقت جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیں، نے ایک جذباتی پیغام میں کہا، ’’ہمارے معزز دیشوم گرو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، میرے پاس اب کچھ نہیں بچا۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شبیو سورین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا،’’شری شبیو سورین جی ایک زمین سے جڑے ہوئے لیڈر تھے جنہوں نے عوامی زندگی میں نیچے سے اوپر تک کا سفر کیا اور عوام کی خدمت کے لیے غیر متزلزل عزم کے ساتھ کام کیا۔ وہ خاص طور پر قبائلی برادریوں، غریبوں اور پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے پرجوش تھے۔ ان کے انتقال سے گہرا دکھ ہوا ہے۔ میری دعائیں ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ شری ہیمنت سورین جی سے بات کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔‘‘
کانگریس رہنما جے رام رمیش نے کہا، ’’وہ جھارکھنڈ کے قیام کی تحریک کی ایک مرکزی شخصیت تھے۔ ان کا سماجی اور معاشی انصاف کے لیے جذبہ بے مثال تھا۔

‘‘شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت نے کہا، ’’جھارکھنڈ کے عوام کے لیے وہ کسی دیوتا سے کم نہ تھے۔‘‘لالو پرساد یادو، جو ابتدا میں جھارکھنڈ کی تشکیل کے مخالف تھے لیکن بعد میں شبیو سورین کے اتحادی بنے، نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

شبیو سورین کی زندگی ہندوستان کی قبائلی سیاست کی تاریخ میں ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے، جنہوں نے نہ صرف ایک نئی ریاست کے قیام کی قیادت کی بلکہ اپنی قوم کی شناخت اور حقوق کے لیے زندگی بھر جدوجہد کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button