ممبئی، 2 نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مہاراشٹرا کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو منی لانڈرنگ معاملہ میں 13 گھنٹے سےزائد کی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کر لیا ۔ذرائع کے مطابق ای ڈی نے اس سے پہلے مسٹر دیشمکھ کو پانچ سمن جاری کئے تھے ۔ مسٹر دیشمکھ پیر کے روز ای ڈی کے سامنے پیش ہوئے۔
پوچھ گچھ کے دوران وہ ای ڈی کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر رہے تھے اور سوالات کے جواب دینے میں ٹال مٹول کر رہے تھے۔ انہیں رات میں تقریباََ ڈیڑھ بجے گرفتار کر لیا گیا ۔ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کی طرف سے بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جانے کے مسٹر دیشمکھ نے اس سال اپریل میں ریاست کے وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
انیل دیشمکھ کا منگل کوکوویڈ ٹیسٹ سمیت طبی معائنہ کروائے جانے کے بعد ریمانڈ پر سماعت کے لیے انھیں ایک خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وہ پوچھ گچھ میں تعاون نہیں کر رہے تھے اور اپنے جوابات میں رد و بدل کر رہے تھے۔ اس کے بعد انھیں دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب حراست میں لے لیا گیا۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ دیشمکھ سے ایجنسی کے ذریعہ جمع کیے گئے مبینہ ثبوت پر پوچھ گچھ کی گئی۔ ان میں کیس کے ایک گواہ کا بیان بھی شامل ہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے ان کے خلاف مبینہ 100 کروڑ روپیے کی جبراً وصولی کے معاملے میں منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ اس وقت کے ریاستی وزیر داخلہ نے اس وقت اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سچن وازے سے کہا تھا کہ وہ ممبئی کے ہوٹلوں اوربار سے ہر ماہ 100 کروڑ روپے وصول کریں حالانکہ دیش مکھ اس الزام کی بار بار تردید کرتے رہے۔
سچن کو اس معاملے میں سرکاری ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے اور انھیں اینٹیلیا بم کیس میں قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کی جانب سے گرفتار کیا جا چکا ہے۔



