گجرات سے الٰہ آباد، جانیں کب اور کہاں سے عتیق احمد کا قافلہ گزرا
سابق ایم پی عتیق احمد کو گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان کے راستے یوپی لایا گیا
لکھنؤ ، 27مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سابق ایم پی عتیق احمد کو گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان کے راستے یوپی لایا گیا ہے۔ عتیق کا یوپی (اتر پردیش) تک کا سفر تقریباً 24 گھنٹے میں مکمل ہوا۔ عتیق احمد کا قافلہ اتوار (26 مارچ) کی شام کو احمد آباد کی سابرمتی سینٹرل جیل سے نکلا اور پیر (27 مارچ) کی شام پریاگ راج کی نینی سینٹرل جیل پہنچا۔ اس دوران راستے میں ایک جگہ حادثہ بھی پیش آیا۔ جس میں عتیق احمد کی گاڑی الٹنے سے بال بال بچ گئی۔ واضح ہو کہ عتیق احمد کے حوالے سے یوپی پولیس اتوار کی شام 5.44 بجے احمد آباد سے روانہ ہوئی تھی۔ یہ قافلہ شام 7.12 بجے سابرکانٹھا پہنچا۔ اس کے بعد یہ رات 10.07 بجے راجستھان کے ادے پور میں داخل ہوا۔ عتیق احمد کا قافلہ تقریباً 12.30 بجے چتور گڑھ پہنچا۔
اس کے بعد 3.11 بجے کوٹا پہنچے۔ اتر پردیش پولیس کی گاڑیوں کا قافلہ پیر کی صبح 7.20 بجے مدھیہ پردیش کے شیو پوری ضلع میں داخل ہوا۔ یہاں سے نکلنے کے بعد یہ قافلہ صبح نو بجے اتر پردیش کے جھانسی ضلع کی سرحد میں داخل ہوا۔شیو پوری ضلع کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ عتیق احمد کو لے کر اتر پردیش پولیس کا قافلہ پیر کی صبح تقریباً 7 بجے مدھیہ پردیش کے شیو پوری ضلع کے کھرائی میں کچھ دیر کے لیے رکا، تاکہ عتیق احمد جھانسی ضلع میں داخل ہونے سے پہلے رفع حاجت کر سکے۔ سفید پگڑی میں ملبوس عتیق احمد جب پولیس وین سے نیچے اترے تو صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ خوفزدہ ہیں، جس پر اس نے جواب دیا، کس کا ڈر؟۔ اس کے فوراً بعد پولیس اہلکار انہیں صحافیوں سے دور لے گئے۔یہ قافلہ دوپہر 12 بجے کے قریب جالون میں داخل ہوا۔
اس کے بعد باندہ چترکوٹ کے راستے پریاگ راج پہنچا۔ اہم بات یہ ہے کہ اتوار کی شام احمد آباد کی سابرمتی سینٹرل جیل سے باہر آنے کے بعد احمد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کا قتل ہو سکتا ہے۔ جب اسے پولیس کی گاڑی میں لے جایا جا رہا تھا، احمد نے جیل کے باہر صحافیوں کو بتایا مجھے میری جان کا خدشہ ہے۔ اترپردیش پولیس عتیق احمد کو احمد آباد، گجرات میں واقع سابرمتی سینٹرل جیل سے ایک عدالتی معاملے کے سلسلے میں پریاگ راج لے آئی ہے۔ عتیق احمد کو منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ امیش پال قتل کیس میں فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ تب تک عتیق کو نینی جیل میں رکھا جائے گا۔ عتیق احمد سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سابق رکن پارلیمنٹ ہیں اور جون 2019 سے سابرمتی جیل میں بند ہیں۔
جب وہ اتر پردیش کی جیل میں تھے تو ریئل اسٹیٹ کے تاجر موہت جیسوال کو اغوا کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے الزام میں سپریم کورٹ نے انہیں وہاں منتقل کر دیا تھا۔ پولیس نے کہا کہ اس کا نام 100 سے زیادہ مجرمانہ مقدمات میں شامل ہے، جن میں حالیہ امیش پال قتل کیس بھی شامل ہے۔ دریں اثنا، پیر کی صبح پریاگ راج جاتے ہوئے احمد کو لے جانے والی گاڑی نے شیو پوری ضلع میں ایک گائے سے ٹکر اگئی تھی۔ صبح تقریباً 6.25 بجے پیش آنے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے۔ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک کی طرف بڑھ رہی ایک گائے عتیق احمد کو لے جانے والی گاڑی سے ٹکرا گئی۔ واقعے کے بعد پولیس کی گاڑی آگے کا سفر شروع کرنے سے پہلے کچھ دیر کے لیے وہاں رکی۔ ایک پولیس افسر نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق گائے تھوڑی دیر بعد اٹھ کر چلی گئی۔ اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سبرت پاٹھک نے کہا تھا کہ اگر عتیق احمد کی گاڑی مافیا وکاس دوبے کی طرح الٹ جائے تو انہیں حیرت نہیں ہوگی۔



