اسپورٹس

پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق کو دل کا دورہ

’انجیو پلاسٹی کے بعد صحت بہتر‘

لاہور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز انضمام الحق عارضہ قلب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دل میں تکلیف کے باعث سابق کرکٹر انضمام الحق کو نجی اسپتال میں داخل کیا گیا ۔جہاں ضروری ٹیسٹوں کے بعد ماہرامراض دل پروفیسر زبیرا کرم نے انضمام الحق کی انجیوپلاسٹی کی۔
Join Urdu Duniya WhatsApp Group.
ذرائع کے مطابق انضمام الحق کو اسٹنٹ ڈالا گیا ہے، تاہم کھلاڑی کی طبیعت قدرے بہتر بتائی جاتی ہے۔واضح رہے کہ سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم انضمام الحق قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ 1992 کے ورلڈکپ میں سیمی فائنل کے ہیرو انضمام الحق نے 120 ٹیسٹوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 8830 رنز بنارکھے ہیں، ان کا ٹیسٹ میں انفرادی اسکور 329 رنز ہے جبکہ وہ پاکستان کے لئے 25 ٹیسٹ سینچریاں اور 46 نصف سینچریاں بناچکے ہیں۔
ایک روزہ میچز میں انضمام الحق نے پاکستان کی جانب سے 378 میچز کھیل کر 11739 رنز اسکور کئے، انہوں نے 10 سینچریاں اور 83 نصف سینچریاں بنارکھی ہیں۔
ان کو ڈاکٹرز نے زیر نگرانی رکھا ہوا ہے۔پاکستانی اور غیرملکی شخصیات انضمام الحق کی طبعیت خراب ہونے کے بعد ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کررہے ہیں۔پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ فخر پاکستان اور لیجنڈ انضمام الحق کی صحت کے لیے دعا گو ہیں۔انڈین کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے بھی انضمام کی صحت کو لے کر فکرمند نظر آئے اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ’وہ سالہ سال تک ہمارے کھیل کا حصہ رہیں۔

مجھے ہارٹ ا ٹیک نہیں ہوا انضمام

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان انضمام الحق نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معدہ خراب ہونے کی وجہ سے چیک اپ کے دوران دل سے متعلقہ مسائل کے بارے میں معلوم ہوا۔انضمام نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا کہ وہ لوگوں کی طرف سے موصول ہونے والے پیغامات سے بہت زیادہ متاثر ہوئے لیکن انہیں دل کا دورہ نہیں پڑا تھا۔
پاکستان کے لیے 120 ٹیسٹ اور 378 ون ڈے کھیلنے والے انضمام کو پیر کی رات ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ انہیں بے چینی اور سانس لینے میں دشواری تھی۔انضمام نے کہا کہ میں نے رپورٹیں پڑھی ہیں کہ مجھے دل کا دورہ پڑا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ میں مکمل چیک اپ کے لیے اسپتال گیا اور ڈاکٹر نے کہا کہ انجیو گرافی کرنی ہے۔
انجیوگرافی کے دوران انہوں نے بتایا کہ میری ایک شریان میں ’بلاکیج‘ ہے، اس لیے انہوں نے اسٹینٹ ڈالے۔انہوں نے کہا کہ یہ آسان اور کامیاب تھا۔ میں 12 گھنٹوں کے اندر گھر واپس آگیا اور اب بہتر محسوس کر رہا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button