لاہور ، 15 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پاکستان کے سابق امپائر اسد رؤف کا لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 66 برس تھی۔رؤف نے سال 2000 میں بطور امپائر اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیاتھا۔ انہوں نے 64 ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کی، جس میں وہ 49 میچوں میں آن فیلڈ امپائر اور 15 میچوں میں ٹی وی امپائر رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 139 ون ڈے اور 28 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھی امپائرنگ کی۔ وہ 2000 کی دہائی میں پاکستان کے معروف امپائروں میں سے ایک تھے۔ان کے رشتہ داروں نے تصدیق کی کہ ا سد رؤف کو بدھ کی رات دل کا دورہ پڑا۔
انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔لاہور میں ان کے بھائی نے بتایاکہ پچھلے دو دنوں سے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے صدر رمیز راجہ نے ٹویٹ کیا کہ اسد رؤف کے انتقال کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ وہ نہ صرف ایک اچھے امپائر تھے بلکہ ان میں مزاح بھی تھا۔
وہ ہمیشہ میرے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے رہتے تھے ۔میری تعزیت ان کے اہل خانہ سے ہیں۔ رؤف نے پاکستان کے نیشنل بینک اور ریلوے کے لیے 71 فرسٹ کلاس میچز کھیلے اور بعد میں امپائر بنے۔ انہیں اپریل 2006 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ایلیٹ پینل میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے ویمنز ٹی ٹوئنٹی میں 11 میچوں میں امپائرنگ بھی کی۔علیم ڈار کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان کے معروف امپائروں میں سے ایک تھے۔ تاہم،ان کا کیریئر 2013 میں اس وقت ختم ہو گیا جب ممبئی پولیس نے انہیں آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ کا ملزم بنا دیا۔
تب اسد رؤف اس ٹورنامنٹ میں امپائرنگ کر رہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے آئی پی ایل کو درمیان میں چھوڑ دیا بعد میں چمپئنز ٹرافی سے بھی دستبردار ہو گئے۔ اس کے بعد انہیں آئی سی سی ایلیٹ پینل سے ڈراپ کر دیا گیا۔کرکٹ بورڈ آف انڈیا (بی سی سی آئی) نے سال 2016 میں بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزام میں ان پر پانچ سال کی پابندی عائد کی تھی۔بی سی سی آئی کے بعد پی سی بی نے بھی ان پر پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ ڈومیسٹک میچوں میں بھی امپائرنگ نہیں کر سکتے۔ ان پر پاکستان میں کرکٹ سے متعلق تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔اس کے بعد انہوں نے لاہور کے مشہور لنڈا بازار میں کپڑوں اور جوتوں کی دکان کھولی تھی۔



